اسرائیلی قبرستان سے فلسطینیوں کی لاشیں واپس

فسلطینیوں کے تابوت
Image caption غزہ میں حماس باقاعدہ فوجی تقریب منعقد کرے گی جس میں ہر تابوت کو اکیس توپوں کی سلامی دی جائے گی

اسرائیل نے فلسطینی حکام کو ان اکانوے افراد کی لاشیں واپس کر دی ہیں جو اسرائیل پر حملوں کی کوشش کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔

ان میں ایسے خودکش بمباروں اور شدت پسندوں کی لاشیں بھی شامل ہیں جو پینتیس برس پہلے کارروائیوں میں ہلاک ہوئے تھے۔

لاشوں کی واپسی اس معاہدے کا حِصّہ ہے جس کے تحت اسرائیلی جیلوں میں قید سینکڑوں فلسطینیوں نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی بات کی تھی۔ اسرائیلی حکام لاشوں کی واپسی کو اعتماد سازی کی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔

ہلاکشدہ فلسطینیوں کو اسرائیل میں ’جنگجو دشمنوں‘ کے لیے مخصوص قبرستان میں دفن کیا گیا تھا جہاں ان کی قبروں کو نمبر دیے گئے تھے۔ان میں سے ایک کی والدہ نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کی لاش کی واپسی پر بہت خوش ہیں اور انہوں نے اس موقع کے لیے سولہ برس انتظار کیا ہے۔

فلسطینی حکام نے بتایا ہے کہ اناسی لاشوں کو رام اللہ اور بارہ کو غزہ کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ لاشوں کی دوبارہ تدفین سے قبل خصوصی تقاریب ہوں گی۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق غزہ میں حماس باقاعدہ فوجی تقریب منعقد کرے گی جس میں ہر تابوت کو اکیس توپوں کی سلامی دی جائے گی۔ اس کے بعد ان کو تدفین کے لیے مختلف علاقوں میں لے جایا جائے گا۔

رام اللہ میں تابوتوں کو فلسطینی پرچم میں لپیٹ کر صدر محمود عباس کی رہائشگاہ کے باہر رکھا گیا ہے۔ رام اللہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان ڈانیسن نے بتایا کہ لاشوں کی واپسی فلسطینیوں کے لیے انتہائی اہم تھی اور اس حساس مسئلے پر فریقین کے درمیان طویل مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔

ہلاکشدگان کو فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔

اس مہینے کے آغاز پر اسرائیلی جیلوں میں قید سینکڑوں فلسطینیوں نے دو ماہ سے جاری بھوک ہڑتال کے خاتمے کو لاشوں کی واپسی سے مشروط کیا تھا۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ’انسانی ہمدردی کے اس کام‘ سے امن کے قیام کا عمل دوبارہ شروع ہو جائےگا۔ دسمبر دو ہزار دس میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان براہ راست مذاکرات مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کے قیام کی وجہ سے ختم ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں