شکیل آفریدی کے لیے فکرمند ہیں: امریکہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شکیل آفریدی اس وقت پشاور جیل میں قید ہیں

امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے پاکستان سے ڈاکٹر شکیل آفریدی پر لگائے گئے نئے الزامات کی وضاحت مانگی ہے جس پر اب تک کوئی جواب نہیں آیا ہے لیکن امریکہ کا مؤقف یہی ہے کہ ڈاکٹر آفریدی کو رہا کیا جانا چاہیے۔

جمعہ کو واشنگٹن میں اخباری بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا ہے کہ ’ہم اب بھی یہی وضاحت چاہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر آفریدی پر نئے الزامات کیا ہیں، کہاں سے آئے ہیں اور ان کا مطلب کیا ہے‘۔

بی بی سی اردو کے احمد رضا کے مطابق مارک ٹونر نے کہا کہ ڈاکٹر آفریدی کے معاملے پر امریکہ کا بنیادی مؤقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ غیرمنصفانہ سلوک ہورہا ہے۔ انہوں نے جو بھی کیا وہ پاکستان اور ہمارے مفاد میں کیا جس میں اکیسویں صدی کے سب سے بڑے عوامی قاتل کو برآمد کرنا تھا‘۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی پر الزام ہے کہ انہوں نے ایبٹ آباد میں مقیم دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب شخص اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں امریکہ کی مدد کی تھی۔

ڈاکٹر آفریدی کو حال ہی میں خیبر ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ نے تینتیس سال قید کی سزا سنائی ہے جس کے بارے میں پہلے تو پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے یہ خبر دی تھی کہ انہیں یہ سزا بن لادن کا سراغ لگانے میں امریکہ کی مدد کرنے پر دی گئی لیکن بعد میں پاکستانی حکام نے یہ مؤقف اپنایا کہ ڈاکٹر آفریدی کو تو سزا شدت پسند تنظیم لشکر اسلام سے تعلق رکھنے پر دی گئی۔

انہیں دی جانے والی سزا کے خلاف جمعہ کو کمشنر پشاور ڈویژن کی عدالت میں اپیل بھی دائر کی گئی ہے ۔ یہ اپیل شکیل آفریدی کے بھائی جمیل آفریدی کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ سزا غیر قانونی ہے کیونکہ اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ سات سال سے زیادہ کی سزا دینے کا اختیار نہیں رکھتا۔

اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت میں شکیل آفریدی کو دفاع کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی انھیں یہ اختیار دیا گیا کہ وہ کوئی وکیل مقرر کر سکتے اس لیے یہ سزا آئین کے بھی خلاف ہے ۔

شکیل آفریدی کو سزا سنائے جانے کے بعد پشاور کی سنٹرل جیل میں رکھا گیا ہے جہاں ان کے تحفظ پر بھی خدشات سامنے آئے ہیں۔

انہیں جیل میں لاحق جان کے خطرے کے بارے میں امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ ان کی بہتری کے بارے میں بہت زیادہ فکرمند ہے اور اس بارے میں پاکستان کو آگاہ بھی کیا گیا ہے۔

’یہ وہ بات ہے جو ہم وزارت خارجہ کی اعلی ترین سطح سے پاکستان تک پہنچائی بھی ہے۔ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اس پر بات کی ہے۔ ہم نے یہ معاملہ اپنے سفیر کیمرون منٹر کے ذریعے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ انداز میں بھی اٹھایا ہے جنہوں نے ایک یا دو دن پہلے پاکستانی وزیر خارجہ سے ملاقات بھی کی ہے اور اس مسئلے کو دوبارہ اٹھایا ہے اور ہمارا مؤقف اس بارے میں بہت واضح ہے کہ ہم ان کی بہتری کے بارے میں فکرمند ہیں‘۔

اسی بارے میں