افغانستان: مغوی غیر ملکی امدادی کارکن بازیاب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اغواء ہونے والی ہیلن جونسٹن ماہرِ خوراک ہیں۔

افغانستان میں حکام کے مطابق شمال مشرقی افغانستان میں گزشتہ ماہ اغواء کیے جانے والے چار امدادی کارکنوں کو نیٹو اور افغان فوج کے آپریشن میں رہا کروا لیا گیا ہے۔

خوراک کی ماہر ایک برطانوی شہری ہیلن جونسٹن، کینیا سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر موراگوا اوریرے اور دو افغان شہریوں کو جمعہ کی رات بدخشاں صوبے سے اغوا کاروں کی حراست سے بازیاب کروایا گیا۔ انہیں بائیس مئی کو اغواء کیا گیا تھا۔

نیٹو کے مطابق اس آپریشن میں پانچ اغوا کاروں کو بھی ہلاک کیا گیا۔

یہ امدادی کارکن افغانستان میں سوئٹزرلینڈ کے امدادی گروپ کے لیے کام کرتے تھےاور وہ شمال مشرقی افغانستان میں گھوڑوں کی مدد سے بدخشاں صوبے کے ایک دور دراز پہاڑی علاقے میں جا رہے تھے جب انہیں اغوا کیا گیا۔

اس ٹیم کے ایک پانچویں رکن کو پہلے ہی رہا کر دیا گیا تھا جو کہ ایک افغانی شہری تھے۔

آئی سیف کے مطابق کارکنوں کو ایک غار سے بازیاب کیا گیا۔ ریسکیو کرنے والے فوجی ہیلی کاپٹر کی مدد سے رات کے اندھیرے میں موقع پر پہنچے۔

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس آپریشن کو انتہائی جرتمندانہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس آپریشن کی اس وجہ سے اجازت دی کیونکہ ان کے خیال میں مغوی کارکنوں کی جان کو لاحق خطرات میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا تھا۔

وزیر اغطم نے مزید کہا کہ اس آپریشن سے تمام اغواکاروں کو ایک پیغام ملنا چاہیے کہ اگر وہ برطانوی شہریوں کو اغوا کریں گے تو ان کے خلاف شدید کارروائی کی جائے گی۔

افغان سکیورٹی فورسز کے ترجمان لال محمد احمدزئی کا کہنا تھا کہ بازیاب ہونے والے کارکن ٹھیک حالت میں ہیں۔

آئی سیف کے کمانڈر جان ایلن کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن طالبان کو شکست دینے کے ہمارے اجتماعی اور پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں افغان حکام کا انتہائی مشکور ہوں اور آئی سیف افواج پر مجھے فخر ہے جنہوں نے اس آپریشن کی منصبوہ بندی کی اور اس پر عملدرآمد کیا۔

میڈ ائیر کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ اپنے کارکنوں کی بازیابی پر اطمینان محسوس کر رہا ہے اور اس آپریشن میں شامل تمام اہلکاروں کا بہت مشکور ہے۔

سنہ دو ہزار دس میں بدخشاں صوبے میں غیر ملکی طبی امدادی کارکنوں کا ایک گروہ بم دھماکے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ اس گروہ میں چھ امریکی شہری بھی شامل تھے۔

اسی بارے میں