مصر: سابق اہلکاروں کے خلاف مقدمات

مصر کے برطرف صدر حسنی مبارک تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مصر کے برطرف صدر حسنی مبارک کے خلاف مظاہرین کے قتل عام کرنے کا الزام ہے۔

مصر کے لوگ سابق صدر صدر حسنی مبارک کے خلاف تاریخی مقدمہ کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اسی موقع پر بی بی سی نے صدر حسنی مبارک کے دور میں اعلی عہدوں پر کام کرنے والے عہدیداروں کے جاری مقدمات پر نظر ڈالی ہے۔

حسنی مبارک، مصر کے سابق صدر

الزامات: ان کے خلاف مظاہرین کے قتل کی سازش کا الزام ہے جس کی سزا کم از کم پندرہ سال یا ‎سزائے موت ہے۔ ان پر دوسرا الزام اقتدار کے دوران دولت کمانے کا بھی الزام ہے۔ (پانچ سے پندرہ سال قید کی ‎سزا)

فیصلہ: انہیں مظاہرین کے قتل کی سازش کا ملزم پایا گیا ہے اور عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

فی الحال وہ شرم الشیخ کے بین الاقوامی ہسپتال سے قاہرہ کے ہسپتال منتقل ہو گئے ہیں۔

جمال مبارک، صدر مبارک کے چھوٹے بیٹے، تاجر اور سابق برسر اقتدار پارٹی کے عہدیدار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سابق مصری صدر حسنی مبارک کے بیٹے اعلی اور جمال

الزامات: ان پر بدعنوانی کا الزام ہے جس کی سزا پانچ سے پندرہ سال ہے۔ ان پر سٹاک ایکسچینج میں اندر اندر ہی ٹریڈینگ کرنے کا بھی الزام ہے۔ مقدمے کی سماعت ابھی شروع ہونی ہے۔

فیصلہ: مجرم نہیں

فی الحال وہ قاہرہ کی تورہ جیل میں ہیں۔

اعلیٰ مبارک، صدر مبارک کے بڑے بیٹے اور تاجر

الزامات: بدعنوانی ہے جس کی سزا پانچ سے پندرہ سال ہو سکتی ہے۔

فیصلہ: مجرم نہیں

فی الحال وہ قاہرہ کی تورہ جیل میں ہیں۔

حبیب العدلی، سابق وزیر داخلہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حبیب العدلی، سابق وزیر داخلہ

الزامات: ان پر منی لانڈرنگ، منافع خوری اور بدعنوانی کا الزام ہے۔ (اس کےلیے پانچ سے پندرہ سال کی سزا ہے)۔ اس کے علاوہ مظاہریں کے قتل کا حکم دینے کا الزام بھی ہے (پندرہ سال کی ‎سزا یا سزائے موت)۔

فیصلہ: مظاہرین کے قتل میں تعاون کرنے کی پاداش میں عمر قید کی سزا۔ منافع خوری اور منی لانڈرنگ کے لیے مئی میں بارہ سال قید کی سزا۔ پانچ سال منافع خوری کے لیے جولائی میں سزا۔

فی الحال وہ قاہرہ کی تورہ جیل میں ہیں۔

احمد نازف، سابق وزیر اعظم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption احمد نازف، سابق وزیر اعظم

الزام: منافع خوری کا الزام ہے

فیصلہ: مجرم

سزا: ایک سال کی ’معطل‘ قید۔

یوسف بوتروس غالی، سابق وزیر خزانہ

الزامات: بدعنوانی اور منافع خوری

فیصلہ: سرکاری پیسے میں خردبرد اور اقتدار کا غلط استعمال ۔ عدالت میں ان کی غیر حاضری انہیں دو بار دس سال کی سزا سنائی گئی۔

مصر نے برطانیہ سے یوسف بوتروس غالی کی ملک بدری کی درخواست کر رکھی ہے۔

راشد محمد راشد، سابق وزیر تجارت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوسف بوتروس غالی، سابق وزیر خزانہ

الزامات: بدعنوانی اور منافع خوری

فیصلہ: غدالت سے غیر حاضری میں میں انہیں پانچ اور پندرہ سال قید کی سزا

مصر نے ان کی حوالگی کے قطر سے درخواست کر رکھی ہے

احمد المغربی، سابق ہاؤسنگ وزیر

الزامات: بدعنوانی

فیصلہ: مئی میں پانچ سال کی سزا

انس الفکی، سابق وزیر اطلاعات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption راشد محمد راشد، سابق وزیر تجارت،

الزامات: بدعنوانی

فیصلہ: ستمبر میں سات سال کی سزا، جولائی میں بدعنوانی کے دوسرے الزام میں بری

ظہیر ‏غرانہ، سابق وزیر سیاحت

الزامات: بدعنوانی

فیصلہ: مئی میں پانچ سال قید کی سزا۔ ستمبر میں غیر قانونی طور پر کمپنی لائسنس جاری کرنے کے الزام میں تین سال کی ‎سزا۔

وہ فی الحال قاہرہ کے تورا جیل میں ہیں۔

اوسامہ الشیخ، ملکی ٹی کے سابق سربراہ

الزامات: بدعنوانی

فیصلہ:پانچ سال قید کی سزا ستمبر میں

حسین سلیم، بزنس ٹائیکون اور صدر مبارک کے معتمد

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حسین سلیم، بزنس ٹائیکون اور صدر مبارک کے معتمد

الزامات: اسرائیلی گیس معاملہ اور بحرہ احمر میں زمیں کے فروخت میں فریب اور مالی تخمینے کا الزام۔ اس کے علاوہ منی لانڈرنگ کے لیے سپین میں مقدمہ جاری ہے۔ (پانچ سے پندرہ سال قید کی سزا)

فیصلہ: مجرم نہیں

وہ سپین میں ضمانت پر رہا ہیں اور ان کی مصر کو حوالگی کی درخواست کی گئی ہے۔

احمد عز، سٹیل کے بڑے تاجر اور سابق برسر اقتدار پارٹی کے عہدیدار

الزامات: سرکاری فنڈ کا زیاں

فیصلہ: ستمبر میں دس سال قید کی سزا

اسی بارے میں