حسنی مبارک کا عروج و زوال؟

حسن مبارک تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حسن مبارک نے تیس سال مصر پر راج کیا ہے

مصر میں تیس برس تک حکومت کرنے والے حسنی مبارک کی حکمرانی اس وقت اختتام پر پہنچی جب گزشتہ برس فروری میں پورے ملک میں ان کے خلاف احتجاج نے زور پکڑا۔

سنہ انیس سو اکیاسی میں صدر انور سادات کے قتل کے وقت نائب صدر کے عہدے پر فائز حسنی مبارک کے بارے میں بہت کم لوگوں کو یہ توقع تھی کہ وہ اتنے لمبے تک برسرِ اقتدار رہیں گے۔

حسنی مبارک کے دور میں کہیں بھی پانچ سے زیادہ افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی تھی۔

صدر سادات کو اسلامی جہاد سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے قاہرہ میں ایک فوجی پریڈ کے دوران فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد اکتوبر سنہ انیس سو اکیاسی میں محمد حسنی سید مبارک منصب صدارت پر فائز ہوئے۔

اس وقت وہ بہت کم جانے جاتےتھے لیکن انہوں نے صدر سادات کے قتل کی وجہ بننے والے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے لیے استعمال کیا۔

پچھلے تیس برسوں میں حسنی مبارک پر چھ قاتلانہ حملے ہوئے۔ سنہ انیس سو پچانوے میں ایتھیوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں تو وہ بال بال بچے تھے۔

ان قاتلانہ حملوں کے ساتھ ساتھ صدر مبارک نے خود کو مغرب اور امریکہ کا قابل اعتبار اتحادی ثابت کر کے بھی اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھی۔

لیکن انہوں نے اپنے پورے عرصۂ اقتدار میں ملک میں ہنگامی حالت کے سہارے حکومت کی جس کے تحت شہری آزادیاں سلب کرلی گئی تھیں اور فوج اور سکیورٹی اداروں کو وسیع اختیارات حاصل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مصر کے مظاہرین نے حسنی مبارک کو اقتدار سے علیحدہ ہونے پر مجبور کر دیا

حکومت کا اصرار تھا کہ شدت پسند اسلامی گروپوں کی دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے یہ قوانین ضروری تھے تاکہ مصر میں سیاحت کی انتہائی اہم صنعت کو بچایا جاسکے۔

انیس سو اٹھائیس میں قاہرہ کے نزدیک مینوفیا کے صوبے میں پیدا ہونے والے حسنی مبارک نے اپنی ذاتی زندگی کو عوام الناس سے دور رکھنے پر ہمیشہ اصرار کیا ہے۔

انہوں نے قاہرہ کی امریکی یورنیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والی خاتون سوزین سے شادی کی جن سے ان کے دو بیٹے ہیں، جمال اور اعلٰی۔

جوانی کے زمانے میں ان کے ساتھیوں کا ہمیشہ یہ شکوہ ہوتا تھا کہ حسنی مبارک کے دن کا آغاز جمنازیم میں ورزش سے ہوتا تھا۔

صدر مبارک کے دوراقتدار میں ملک میں بظاہر استحکام رہا اور معاشی خوشحالی آئی اور شاید اسی وجہ سے مصریوں نے ان کے بلاشرکت غیرے اقتدار کو قبول کیا تھا تاہم گزشتہ کچھ برسوں سے وہ جمہوری آزادیوں کے فروغ کے لیے دباؤ میں محسوس ہو رہے تھے۔

اندرون ملک بڑھتی ہوئی بے چینی، علاقائی سیاست میں ان کی گھٹتی ہوئی اہمیت اور بگڑتی صحت کے ساتھ ساتھ ان کے بعد جانشینی کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات کے بعد ان کے ہمدردوں اور اتحادیوں کو لازماً یہ فکر لاحق تھی کہ بیاسی برس کے حسنی مبارک کب تک اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھ سکیں گے۔

لیکن مصر میں آزادیوں کے علمبرداروں کے نزدیک جمہوریت اور شہری آزادیوں کے بتدریج فروغ کے لیے صدر مبارک کے وعدے قابل اعتبار نہیں تھے۔

یکم فروری کو سرکاری پر ٹی وی پر نشر کیے گئے اپنے ایک خطاب میں حسنی مبارک نے اعلان کیا کہ وہ ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں لے گے۔

ملک میں احتجاج جاری رہے اور انہوں نے پھر دس فروری کو ٹی وی کے ذریعے خطاب کیا اور کہا کہ وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے گے وہ ملک کا اقتدار نائب صدر کو سونپ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مصر میں گزشتہ برس حکومت مخالف احتجاج کا آغاز ہوا تھا

اس کے کچھ دن بعد نائب صدر نے اعلان کیا کہ مسٹر مبارک اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہورہے ہیں اور فوج ملک کی حکمرانی کرے گی۔

چوبیس مئی کو عدالتی عہدے داروں نے اعلان کیا کہ حسنی مبارک اپنے دو بیٹوں کے ساتھ ملک میں ہونے والے احتجاج کے دوران احتجاجیوں کے ہلاکتوں کے الزام میں مقدمے کا سامنا کریں گے۔

حالیہ برسوں میں حسنی مبارک کو پہلی بار اس بات کا احساس ہوا کہ ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے ان پر ملک کے اندر اور باہر دونوں جانب سے دباؤ پڑ رہا ہے۔ باہر سے دباؤ ان کے سب سے بڑے اتحادی امریکہ کی طرف سے تھا۔

جب انہوں نے کہا تھا کہ وہ سیاسی عمل کے لیے راستہ کھولنا چاہتے ہیں تو ان کے حامیوں کو بھی ان پر کم ہی یقین تھا۔

ان کے صدر کے عہدے کے لیے انتخابات میں نہ اترنے کے اعلان کا مطلب تھا کہ امریکہ نے ان پر باہر رہنے کا دباؤ قائم کیا تھا اور قدرے جمہوری نظام کو بہتر طریقے سے اقتدار سونپنے کو کہا تھا۔

مبارک 1981 کے بعد سے تین بار بلامقابلہ صدر منتخب ہوئے لیکن چوتھی بار امریکہ کے دباؤ میں انہوں نے 2005 میں الیکشن کے نظام میں تبدیلی لا کر دوسرے امیدواروں کے حصہ لینا کی گنجائش پیدا کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption مصر کے اپوزیشن گروپوں کو خدشہ تھا کہ صدر حسنی مبارک اپنے بیٹے جمال مبارک کو اپنا جانشین بنانے کی کوشش رہے تھے

ناقدین کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل حسنی مبارک اور ان کی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے حق میں تھا۔

ان کے طویل حکمرانی کے دور میں ان کی عمر اور جانشین کے حوالے سے مصر میں تشویش پائی جاتی تھی لیکن جنوری کے عوامی احتجاج نے مصر کے لوگوں کو ایک نئی آواز دی۔

ان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا صحت اور ان کی طاقت ان کی عمر پر بھاری پڑی لیکن حالیہ دنوں میں کچھ صحت سے متعلق معاملات نے ثابت کر دیا کہ وہ بھی فانی ہے۔

ان کی صحت کے بارے میں تشویش اس وقت دیکھی گئی جب وہ اپنے پتے کے آپریشن کے لیے 2010 میں جرمنی گئے۔ لیکن جب بھی وہ زیادہ دنوں تک میڈیا سے دور رہتے یا کسی اہم پروگرام میں شامل نہیں ہوتے تو اس طرح کی فکر پیدا ہوتی تھی۔

مصری شہروں میں جاری عوامی تحریک کے دباؤ میں آخر کار حسنی مبارک کو اقتدار نائب صدر کے حوالے کرنا پڑا۔ انتیس جنوری کو خفیہ محکمہ کے صدر عمر سلیمان کی ترقی کی گئی جسے اس نظر سے دیکھا گیا کہ مبارک فوج میں اپنے حمایت کو مضبوط کرنا چاہتے تھے۔

اس سے پہلے تک ان کا براہ راست طور پر کوئی جانشین نہیں تھا اور اپوزیشن گروپوں کو یہ شک تھا کہ وہ اپنے بیٹے چالیس سالہ جمال مبارک کو اس کے لیے تیار کر رہے تھے۔

اس سے قبل حسنی مبارک نے کہہ رکھا ہے کہ وہ اپنی آخری سانس تک مصر کی خدمت کرتے رہیں گے۔ یکم فروری کو ملک کے نام اپنے خطاب میں انہوں نے کہا’ یہ وہ پیارا ملک ہے جہاں میں نے اپنی زندگی گذاري، میں اس کے لیے لڑا اور اس کی زمین، اقتدارکی بھوک اور مفادات کی حفاظت کی۔ اسی سرزمین پر میں مروں گا. تاریخ میرے بارے میں فیصلہ کرے گی جیسا کہ دوسروں کے بارے میں اس نے کیا ہے۔‘

دس فروری کو پورے مصر میں خبر پھیل گئی کہ حسنی مبارک استعفیٰ دینے والے ہیں۔ لیکن مبارک نے ایک بار پھر لوگوں کو یہ کہہ کر چونکا دیا کہ وہ ستمبر میں ہونے والے انتخابات تک اقتدار میں رہیں گے۔

لیکن پھر آئندہ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ہی حسنی مبارک اپنی بیوی اور بیٹوں کے ساتھ قاہرہ چھوڑ کر نکل گئے۔ ان کے جانشین اور ملک کے نائب صدر عمر سلیمان نے ٹی وی پر اعلان کیا کہ حسنی مبارک نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔ اس خبر کے عام ہوتے ہی ملک کی عوام خوشیاں منانے سڑک پر اتر گئے۔

اسی بارے میں