مبارک فیصلہ:’انصاف‘ کی تلاش

مبارک تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مبارک کو مصری مظاہرین کے قتل اور بدعنوانی کے الزام میں عمر قید کی سزا ہوئی ہے۔

شاید ہی کسی مصری کے ذہن میں یہ خیال آیا ہوگا کہ وہ کبھی سابق صدر حسنی مبارک کو کسی عدالت کے کٹہرے میں دیکھیں گے۔

گزشتہ سال اگست میں انہوں نے ٹیلی ویژن پر حسنی مبارک کو مظاہرین کے قتل اور بدعنوانی کے الزام میں مقدمے کی سماعت کے دوران دیکھا تھا۔ اس طرح وہ پہلے عرب رہنما ہیں جنہیں عدالت کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔

حسنی مبارک کے مقدمے کی سماعت اور عدالتی کارروائی میں سست رفتاری اور مقدمات میں شواہد پیش کرنے کے سلسلے میں تاخیر پر کافی تنقید ہوئی ہے۔

بہرحال سنیچر کو آنے والے عدالتی فیصلے کے بارے میں یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ گزشتہ سال کی بغاوت کے دوران قتل ہونے والے آٹھ سو پچاس افراد کے ساتھ انصاف نہیں ہو پائے گا۔

ایمان عبدالرحیم السید نے، جن کا اٹھارہ سالہ جوان بیٹا اٹھائیس جنوری کو قاہرہ کے مٹاریا سکوائر پر مارا گیا تھا، کہا :’ایماندارانہ طور پر کہتی ہوں کہ ہمیں کسی فیصلے کی امید نہیں ہے لیکن خدا سے امید ہے کہ ایسا ہوگا اور اس مقدمے کی سماعت میں منصفانہ فیصلہ آئے گا۔‘

مقدمے کی سماعت سننے ‏کے لیے آنے والی ایمان عبد الرحیم السیدنےمزید کہا:’ایک شہید کی ماں ہونے کا ناطے میں اس دن کا ایک سال چار مہینے سے انتظار کر رہی ہوں۔ ہمیں خدا کے انصاف پر ہی بھروسہ ہے، اسے تو پھانسی ہونی چاہیے‘۔

اسی بارے میں