حسنی مبارک کی سزا کے خلاف مصر میں مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عوام کی اکثریت کی خواہش تھی کے حسنی مبارک اور ان کے ساتھیوں کو موت کی سزا سنائی جاتی۔

مصر کے سابق حکمران حسنی مبارک کو دی جانی والی عمر قید کی سزا کے خلاف دارالحکومت قاہرہ کے التحریر سکوائر میں لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم اکٹھا ہو گیا ہے۔

اگرچہ حسنی مبارک کو گذشتہ برس حکومت مخالف احتجاج کے دوران مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے تاہم ان کے دورِ حکومت کے بعض اہم سکیورٹی افسران کی رہائی نے عوام میں اشتعال پیدا کر دیا۔

مصر کے سابق وزیرِ داخلہ حبیب العدلی کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جس عدالتی فیصلہ کو مصر میں ایک باب کا خاتمہ بننا تھا وہ زخموں کو کریدنے کا سبب بن گیا ہے۔

مصر کے دوسرے شہروں اسکندریہ، سوئز اور منصورہ میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ تاہم سب سے بڑا مظاہرہ قاہرہ کے التحریر سکوائر میں ہوا۔ یہی وہ جگہ ہے جو حسنی مبارک کے اقتدار کا خاتمہ بننے والے مظاہروں کا مرکز تھی۔

قاہرہ میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار یالینڈ نیل کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز ہونے والے مظاہرے میں لوگ مسلسل فیصلے کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کے سابق حکومت کے مخالفین کو خدشہ ہے کہ یہ سزائیں اپیل کیے جانے کے بعد بدل سکتی ہیں۔

عوام میں بالخصوص بعض افسران کو بری کیے جانے پر غصہ ہے۔ یہ افسران وزارتِ داخلہ کے اعلٰی عہدوں پر تعینات تھے۔ عدالت کے فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالت میں جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

قاہرہ میں عدالت کے باہر موجود بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کا اعلان ہوتے ہی مصر میں حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے دوران خوشی کی لہر دوڑ گئی وہیں مبارک کے حامی اپنا سر پکڑ کر رونے لگے۔

حسنی مبارک کے خلاف فیصلے کی عدالتی کارروائی مصری ٹی وی پر براہِ راست نشر کی گئی تھی۔

حسنی مبارک نے سنہ انیس سو اکاسی سے دو ہزار گیارہ تک تیس برس مصر پر حکومت کی۔ انہیں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ساڑھے آٹھ سو مظاہرین کی ہلاکت پر ممکنہ موت کی سزا کا سامنا تھا۔

عرب ممالک میں آمر حکمرانوں کے خلاف آنے والے انقلاب نے سب سے پہلے تیونس کے حکمراں زین العابدین کا تختہ اُلٹا۔ لیبیا کے حکمران معمر قذافی کو اکتوبر میں باغیوں نے قتل کر دیا جبکہ یمن کے حکمراں علی عبداللہ صالح نے اقتدار کی منتقلی کے عوض اپنے خلاف مقدمات سے استثنٰی حاصل کر لیا۔

اسی بارے میں