’حولہ قتلِ عام میں کوئی کردار نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر بشارلاسد کا کہنا ہے کہ شام کی خودمختاری کو مجروح اور اس کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

شام کے صدر بشارالاسد کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کا حولہ میں ہونے والے قتلِ عام میں کوئی کردار نہیں تھا۔

حولہ میں پچیس اور چھبیس مئی کو تشدد کے واقعات میں سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں سے بیشتر خواتین اور بچے تھے۔

صدر نے ان واقعات کو ’بھیانک جرائم‘ قرار دیا اور کہا کہ درندے بھی اس طرح کے کام نہیں کرتے۔

پیر کو شام میں نومنتخب پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام میں بیرونی مداخلت تفریق پیدا کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں (اس قتلِ عام کا) درد محسوس نہیں ہوتا تو ہم انسان ہی نہیں۔

اقوام متحدہ کے جائزہ کاروں کے مطابق بیشتر ہلاک ہونے والوں کو قریب سے غیر حادثاتی انداز میں مارا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق حکومت کے حمایتی مسلح گروہ اس قتلِ عام میں ملوث تھے۔

حولہ کے قتلِ عام پر عالمی برادری نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا اور بہت سے ممالک نے شامی سفارتکاروں کو واپس بھیج دیا۔

صدر نے ایک بار پھر غیر ملکی طاقتوں کی حمایت رکھنے والے دہشت گردوں کو فسادات پھیلانے کا ذمہ دار ٹھرایا۔

ان کو کہنا تھا کہ شام کی خودمختاری کو مجروح اور اس کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان مسائل کا واحد حل سیاسی مذاکرات ہیں مگر وہ ان سے بات نہیں کرئیں گے جو شامی عوام کی نمائندگی نہیں کرتے۔

عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے مشترکہ ایلچی کوقی عنان نے سنیچر کو اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ صدر بشار الاسد اپنے الفاظ کو اعمال میں نہیں بدل رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کو اپنے وعدے پورے کرنے کے لیے انتہائی واضح اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

ادھر شام میں تشدد کے واقعات جاری رہے اور برطانیہ میں شام کے لیے انسانی حقوق کے نگراں ادارے نے ایک فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سنیچر کو اناسی ہلاکتیں پیش آئیں جن میں ستاون فوجی بھی شامل تھے۔ اگر اس واقعہ کے تصدیق ہو جائے تو تحریک کے آغاز سے اب تک ایک دن میں ہونے والی یہ سب سے زیادہ فوجی ہلاکتیں ہیں۔

اسی بارے میں