ڈنمارک: چار افراد حملے کی سازش میں قصوروار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان چاد افراد کا مقدمہ گلوسٹرپ کے شہر میں ہوا۔

ڈنمارک کی عدالت نے چار افراد کو جیلانڈ پوسن نامی اخبار کے دفاتر پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں قصوروار ٹھہرایا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم اخبار کی جانب سے سنہ دو ہزار پانچ میں پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکے شائع کرنے کا انتقام لینا چاہتے تھے۔

قصور وار پائے جانے والے تمام افراد سوئیڈن میں مقیم مسلمان تھے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ انہیں حملہ کرنے سے چند گھنٹے پہلے ہی حراست میں لیا گیا۔

ملزمان نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ ان کو سولہ سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

اخبار جیلانڈ پوسن کی ان خاکوں کی اشاعت کا مسلم دنیا میں شدید احتجاج کیا گیا۔

منیر عواد، عمر عبداللہ اور منیر بن محمد دہری کو پولیس نے انتیس دسمبر سنہ دو ہزار دس میں کوپن ہیگن کے قریب ایک فلیٹ سے حراست میں لیا۔ اور سبہی بن محمد کو اگلے روز سوئیڈن سے گرفتار کیا گیا تھا۔

گرفتاری کے وقت ان افراد سے ایک سائلنسر والی مشین گن، ایک پستول، ایک سو آٹھ گولیاں اور ڈکٹ ٹیپ کے رول برآمد ہوئے تھے۔

فردِ جرم میں کہا گیا تھا کہ ان افراد کا مقصد ڈنمارک کی عوام میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔

آج سے سات سال پہلے ڈنمارک کے اس اخبار نےپیغمبر اسلام کے بارہ توہین آمیز خاکے شائع کیے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ڈنمارک دہشتگردوں کے نشانوں پر ہے۔

اس کے ردِ عمل میں ڈنمارک کے پرچم جلائے گئے اور ان کے سفارتخانوں پر حملے کیے گئے۔ اخبار نے آخرکار ان خاکوں کی اشاعت کی معافی تو مانگی تاہم حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان خاکوں کے کارٹونسٹ پر بھی قاتلانہ حملہ کیا گیا۔

اسی بارے میں