شام کے بحران کے حل کے لیے پوتین پر دباؤ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روسی صدر پوتین، بروس اور رومپوئی سے بات چیت کریں گے۔

روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں یورپین یونین کی کانفرنس میں روسی صدر ولادیمیر پوتین پر شام کے بحران پر سخت موقف اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالے جانے کے امکانات ہیں۔

ای یو کے رکن ممالک یہ چاہتے ہیں کہ ولادیمیر پوتین اپنے اتحادی ملک شام پر دباؤ ڈالے کہ وہ اپنے شہروں سے بھاری اصلحہ ہٹائے اور اقوام متحدہ کے سفیر کوفی عنان کے امن منصوبے پر پوری طرح سے عمل کرے۔

واضح رہے کہ روس اور چین امریکہ اور یورپین یونین کی جانب سے شامی صدر بشار الاسد کی مذمت اور ان کی برطرفی کے مطالبات کی مزاحمت کر رہے ہیں۔

سنیچر کو بشار الاسد کا کہنا تھا کہ شام میں ہولا قتل عام کے پیچھے ان کی فوج کا ہاتھ نہیں تھا۔

ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں صدر اسد نے شامی پارلیمنٹ سے کہا کہ ایک سو آٹھ افراد کا قتل عام ایک ایسا جرم ہے جو کوئی بڑے سے بڑا وہشی بھی نہ کرے۔

صدر اسد نے کہا ہے کہ شام میں بحران کا واحد حل سیاسی بات چیت ہے اور ’غیر ملکی مداخلت‘ سے شام منقسم ہو رہا ہے۔

یورپین کونسل کے صدر ہرمن وان رومپوئی، یوروپین کمیشن صدر جوز مینوئل باروسو اور ای یو خارجہ پالیسی چیف کیتھرن ایشٹن سوموار کو یورپین یونین کی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ جب سے پوتین صدر کی حیثیت سے لوٹے ہیں اس کے بعد سے یورپی سفارت کار اس ملاقات کو پوتین کے ساتھ رشتوں کی از سرنو بحالی کے ایک نادر موقعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

امید کی جا رہی ہے کہ یورپین یونین کے رہنماء اس موقعے سے تجارت اور ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر بھی بحث کریں گے۔ اس موقعے سے روس یورپی ممالک میں بغیر ویزے کے سفر کے اقدام میں تیزی لانے کی کوشش کریں گے۔

لیکن نمائندوں کا کہنا ہے کہ شام کا مسئلہ ایجنڈے پر چھایا رہے گا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یورپین یونین کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے ’ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ روس اپنے اثرورسوخ کا پورا استعمال کرتے ہوئے (اسد) حکومت کو امن منصوبے پر عمل درآمد کرانے کے لیے راضی کرے۔‘

اسی بارے میں