’وسط ایشیائی ممالک سے انخلاء کا معاہدہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’تین ایشیائی ریاستوں سے ہوئے معاہدوں کے باعث ہمیں کئی آپشنز ملیں گی‘

نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات فوجوں کی واپسی کے راستے کے لیے وسطی ایشیائی ممالک کی تین ریاستوں کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل راسموسن نے یہ بات پیر کو برسلز میں ایک پریس کانفرنس میں کہی۔

انہوں نے کہا ’تین وسطی ایشیائی ممالک ازبکستان، کرغزستان اور قزاقستان افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلاء کے لیے راستہ فراہم کرنے پر آمادہ ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ روس کے ساتھ پہلے ہی نیٹو کا معاہدہ ہے اور ان مزید تین ریاستوں سے راستے کے بعد نیٹو ہزاروں جنگی گاڑیوں، کنٹینرز اور دیگر سامان افغانستان سے نکال سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے پچھلے سال چھبیس نومبر کو سرحدی چوکی سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے حملے کے بعد افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے لیے رسد کے راستے بند کردیے تھے۔

اس حملے میں پاکستان کے چوبیس فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان کی پارلیمان نےایک مشترکہ قرارداد میں امریکہ سے اس واقعہ پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم امریکہ اس پر راضی نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ وسطی ایشیائی ممالک سے رسد کا راستہ پاکستان کے راستے سے چھ گنا زیادہ مہنگا ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے پریس کانفرنس میں کہا ’تین ایشیائی ریاستوں سے ہوئے معاہدوں کے باعث ہمیں کئی آپشنز ملیں گے۔ ان معاہدوں کی وجہ سے روس کے ساتھ ہوا معاہدہ زیادہ مؤثر ہو گا۔‘

پاکستان کے ساتھ رسد کے راستے کھولنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ’مجھے ابھی بھی امید ہے کہ مستقبل قریب میں رسد کا راستہ کھولنے کا حل مل جائے گا۔‘

اسی بارے میں