’شام میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کا عزم‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر ولادمیر پوتن چین کے تین روزہ دورے پر ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن کے چین کے دورے کے دوران دونوں ممالک نے شام میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

چین کے دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک طاقت کے زور پر اقتدار میں تبدیلی کے خلاف ہیں اور اقوام متحدہ کے ایلچی کوفی عنان کے امن منصوبے کی حمایت کرتے ہیں۔

صدر پوتن چین کا تین روزہ دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ باہمی تعلقات کو بہتر بنانے اور ایک اعلیٰ سطحی سکیورٹی اجلاس میں شرکت کے لیے گئے ہیں۔

دونوں ممالک نے دو مرتبہ اقوام متحدہ کی شام مخالف قراردادوں کو روکا ہے۔

چین اس وقت اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا صدر ہے اور دونوں شام اور روس نے حالیہ حکومت مخالف تحریک کے پیشِ نظر صدر بشارالاسد کا تختہ الٹنے کی مخالفت کی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شام کے مختلف حصوں میں تشدد کے واقعات جاری ہیں جن کی وجہ سے کوفی عنان کے مجوزہ امن منصوبے کے کامیابی کے امکانات پر شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔

شام میں باغیوں نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے سے اب پیچھے ہٹ جائیں گے۔

متوقع ہے کہ صدر پوتن کے اس دورے میں توانائی اور خارجہ امور زیرِ بحث لائے جائیں گے۔

صدر پوتن نے اس دورے پر جانے سے پہلے کہا تھا کہ وہ باہمی تجارت کو بڑھانا چاہتے ہییں۔

گزشتہ سال دونوں ممالک کی باہمی تجارت کا حجم تقریباً چوراسی ارب ڈالر تھا۔

صدر پوتن کے ہمراہ اس دورے میں چھ کابینہ کے ارکان کے علاوہ تونائی کی کمپنیوں کی اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔

صدر پوتن کے مشیروں کا کہنا ہے کہ روس اور چین کے درمیان سترہ تجارتی معاہدوں کی توقع ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ ان معاہدوں میں بہت عرصے سے متوقع گیس معاہدہ شامل ہے یا نہیں جس کے تحت روس اپنے ہمسایہ ملک کو ستر ارب کیوبک میٹر گیس فراہم کر سکے گا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے بیچ اس معاملے میں گیس کی قیمت پر اختلاف ہے۔

روس دنیا میں سب سے زیادہ توانائی پیدا کرتا ہے جبکہ چین اس کا سب سے بڑا صارف ہے۔

اس دورے سے قبل ہی صدر پوتن نے چین کے ریاستی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ باہمی تجارت کے حجم کو سنہ دو ہزار پندرہ تک ایک سو ارب ڈالر اور سنہ دو ہزار بیس تک دو سو ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتے ہیں۔

بدھ کو صدر پوتن چین کے نائب وزیرِ اعظم لی کیکیونگ سے ملاقات کریں گے جن کے نئے وزیرِ اعظم بننے کی امید ہے۔ وہ ژی جنمنگ سے بھی ملاقات کریں گے جن کے اس سال کے آخر تک چین کے صدر بننے کی بھی توقع ہے۔

اسی بارے میں