’سپین کو امدادی پیکج کی ضرورت نہیں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سپین کے وزیر خزانہ نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا ہے کہ ان کا ملک بینکاری کے شعبے کے لیے یورو زون فنڈز سے بیل آؤٹ پیکج حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سپین کے وزیر خزانہ لوئیس ڈی گنڈوس نے کہا کہ اس ضمن میں اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا جب تک رواں ماہ کے آخر تک بینکوں کا آڈٹ مکمل نہیں ہو جاتا ہے۔

گزشتہ چند دن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سپین فوری طور پر یورو فنڈز سے بیل آؤٹ پیکچ چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا ’عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف آئندہ ہفتے سے سپین کے بینکوں کا آڈٹ یا حساب کی جانچ پڑتال شروع کر رہا ہے اور اس ضمن میں مزید آزاد رپورٹس آئندہ دو ہفتوں تک مکمل ہو جائیں گی۔‘

وزیر خزانہ لوئیس ڈی گنڈوس نے برسلز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں نے آج سپین کے بینکوں میں مداخلت کرنے کے حوالے سے قطعاً کوئی بات نہیں کی ہے۔‘

یورپی اتحاد سے مدد کی درخواست کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا ’ہم مدد مانگنے کی کوئی تیاری نہیں کر رہے ہیں اور ہمارے پاس اپنا منصوبہ ہے۔‘

بدھ کو برسلز میں یورپی کمیشن نے ان مجوزہ تجاویز کو جاری کیا ہے جن کے تحت ٹیکس آمدن سے دیولیہ بینکوں کو امدادی پیکج دینے سے روکنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سپین کو اپنے بینکاری سیکٹر کو تحفظ دینے کے لیے اسی ارب یورو کی ضرورت ہے

ان تجاویز کا مقصد ٹیکس ادا کرنے والوں کو تحفظ دینا ہے اور مستقبل میں خسارہ بینکوں کے شیئر ہولڈز اور کریڈٹ استعمال کرنے والے برداشت کریں گے۔

تاہم ٹیکس ادا کرنے والوں کو مستقبل میں بینکوں کے مالیاتی بحران سے بچانے کے حوالے سے قانون کا نفاذ سال دو ہزار چودہ سے پہلے ممکن نہیں ہو گا۔

دوسری طرف اب بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ سپین کا بینکاری سیکٹر اتنا کمزور ہو چکا ہے اور اسے بیل آؤٹ پیکج حاصل کرنا ہی پڑے گا۔

سپین سرمایے کی کمی سے دوچار بینکاری سیکٹر کو مضبوط کرنے کے لیے اسی ارب یورو حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔

اس ضمن میں بدھ کو سپین کا اس وقت امتحان ہو گا جب وہ اپنے بیس ارب یورو کے بانڈ نیلام کرے گا۔

یورپین کمشنر مائیکل بارنیر کا کہنا ہے کہ’ہمیں لازمی طور پر عوامی نمائندوں کو تیار کرنا ہو گا تاکہ وہ مستقبل میں بینکاری سیکٹر کے بحران سے نمٹ سکیں۔اور دوسری صورت میں شہریوں کو ایک بار پھر سے بل ادا کرنا پڑے گا جبکہ جن بینکوں کو بچایا جائے گا وہ یہ ہی سمجھتے رہیں گے کہ ان کو دوبارہ امدادی پیکج مل جائے گا۔‘

اسی بارے میں