’شام میں ایک اور قتلِ عام، حما میں 78 افراد ہلاک‘

syria hama تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں اب تک حکومت مخالف تحریک کے دوران پندرہ ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں

شام میں حزب اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کے حکومت کی حامی فورسز نے حما صوبے میں عورتوں اور بچوں سمیت اٹھہترافراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

شام میں حزبِ اختلاف کے اتحاد شامی قومی کونسل کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ قتلِ عام القبیر اور مارزاف نامی دو دیہاتوں میں ہوا ہے اور ہلاک ہونے والوں میں بیس سے زائد بچے اور اتنی ہی تعداد میں خواتین شامل ہیں۔

شام کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ فوج کو ’دہشتگردوں‘ کے خلاف کارروائی کے بعد کچھ لاشیں ملی ہیں۔

تاہم آزاد ذرائع سے دونوں جانب سے ملنے والی اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

لگ بھگ دو ہفتے قبل ہی شام میں حولہ نامی قصبے میں ایک سو آٹھ افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا جن میں بڑی تعداد میں بچے شامل تھے۔

اس واقعے کے لیے عینی شاہدین حکومت کی حامی ملیشیا کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ایسا مسلح گروپ کر رہے ہیں تاکہ شام کے خلاف غیر ملکی فوجی طاقت کے استعمال کا جواز فراہم کیا جا سکے۔

بدھ کو شام میں حزبِ مخالف کے کارکنوں نے اطلاعات دی ہیں کہ قبیر نامی گاؤں پر سکیورٹی فورسز نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا اور وہاں بمباری بھی کی گئی تاہم انہوں نے بتایا کہ زیادہ قتلِ عام حکومت کی حامی ملیشیا نے کیا۔ یہ لوگ حکومت کے حامی قریبی دیہاتوں سے آئے تھے۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کو بہت قریبی سے گولیاں ماری گئیں اور چاقو کے وار کیے گئے۔ مرنے والوں میں دو سال سے کم عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔

حما میں موجود ایک کارکن نے بی بی سی کے پروگرام ورلڈ ٹونائٹ کو بتایا ’انہوں نے تقریباً پورےگاؤں کو ہی قتل کر دیا۔ زیادہ تر افراد چاقوؤں سے مارے گئے اور بہت کم لوگ بچنے میں کامیاب ہو سکے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’علاقے میں زخمیوں کی زندگیاں بچانا بھی انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ یہ بدو ہیں اور انہیں صحتِ عامہ کی سہولیات میسر نہیں‘۔

قبیر کے ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خاندان کے چار افراد اس واقعے میں مارے گئے اور جب فوج اور حکومتی ملیشیا گاؤں سے چلی گئیں تو انہوں نے چالیس لاشیں گنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں جنہیں چاقوؤں کے وار کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ملیشیا کے ارکان اپنے ساتھ پینتیس کے قریب لاشیں لے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے ایک نیٹ ورک ’لوکل کوآّرڈینیشن کمیٹی‘ کا کہنا ہے کہ اٹھہتر افراد القبیر میں ہلاک ہوئے جس میں ایک ہی خاندان کے پینتیس افراد شامل ہیں۔ اس گروپ کے مطابق ان ہلاکتوں کو ملا کر صرف بدھ کے روز شام بھر میں ایک سو چالیس افراد ہلاک ہوئے۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ ان اطلاعات کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے ابھی تک کوئی ویڈیو سامنے آئی ہے۔

تاہم اس سے قبل حولہ میں ہونے والے قتلِ عام کی خبریں بھی اسی طرح سامنے آئیں تھیں جن کی بعد میں تصدیق بھی ہو گئی تھی۔

بدھ کو شام کے سرکاری ٹی وی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے عوام کی جانب سے مدد کی اپیل کے بعد القبیر میں ’مسلح دہشتگردوں کے گڑھ‘ پر حملہ کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز کو دو خواتین اور کئی بچوں کی لاشیں ملیں جو طبی حکام کے مطابق اس وقت ہلاک ہوئے جب مسلح دہشتگرد گروپ گاؤں میں موجود تھے۔

ادھر سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ شام میں قیامِ امن کے لیے کوشاں اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان جمعرات کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیں گے کہ وہ شام میں جاری تشدد کے خاتمے کے لیے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور خطے کی اہم طاقتوں پر مشتمل نیا رابطہ گروپ تشکیل دے۔

اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار نادا توفیق کے مطابق کوفی عنان چاہتے ہیں کہ اس معاملے میں ترکی اور ایران جیسے ممالک کو بھی شامل کیا جائے لیکن امریکی وزیرِ خارجہ پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ ان معاملات میں ایران جیسے ممالک کو شامل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں