شنگھائی تعاون تنظیم: افغانستان میں کلیدی کردار کی خواہاں

ایس سی او اجلاس تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ہم افغانستان میں سکیورٹی کردار ادا کرنے کی بات نہیں کر رہے‘

شنگھائی تعاون کی تنظیم نے نیٹو افواج کے انخلاء سے قبل افغانستان میں تنظیم کے کلیدی کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

چین کے صدر ہو جنتاؤ نے بیجنگ میں تنظیم کے اجلاس میں کہا کہ شنگھائی تعاون کی تنظیم کو افغانستان کی پرامن تعمیرِنو کردار ادا کرنے دینا چاہیے۔

اجلاس میں افغانستان کو بطور مہمان ملک مدعو کیا گیا ہے جبکہ ایران، منگولیا، پاکستان اور بھارت مبصرین کے طور پر دو روزہ اجلاس میں شریک ہیں۔

چھ رکنی ‎‎شنگھائی تعاون تنظیم سنہ دوہزار ایک میں قائم ہوئی تھی اور اس میں چین اور روس کے علاوہ وسط ایشیائی ممالک قزاقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

ایس سی او کے اجلاس میں افغانستان کے استحکام اور ترقی پر غور کیا گیا۔ حکام کے مطابق تنظیم افغانستان میں فوجی کردار نبھانے کی خواہاں نہیں ہے۔

ایس سی او میں روسی صدر پیوٹن کے نمائندے کرل بارسکی نے کہا ’ہم افغانستان میں سکیورٹی کردار ادا کرنے کی بات نہیں کر رہے۔‘

افغان صدر حامد کرزئی اور چینی ہم منصب ہو جنتاؤ سٹریٹیجک تعاون کا معاہدہ کر رہے ہیں۔ حامد کرزئی نے اس سے قبل کہا ’چین افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعاون بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔‘

ایس سی او نے شام کی صورتحال پر فوجی مداخلت کی مخالفت کی ہے اور مزید کہا ہے کہ ایران کے خلاف قوت کا استعمال ناقابلِ قبول ہے۔

ایس سی او نے بیان میں کہا ہے کہ شام اور ایران کے مسائل کے حل کے لیے قوت کا استعمال عالمی استحکام کو خطرے میں ڈال دے گا۔

روس نے ایران کے متنازع ایٹمی پروگرام کے حل کے لیے اجلاس طلب کیا ہے۔ روسی صدر ولادی میر پیوتن اس اجلاس سے قبل اپنے ایرانی ہم منصب محمود احمدی نژاد سے بھی ملاقات کریں گے۔

اسی بارے میں