شام: مبصرین کو’قتل عام‘ کی جگہ جانے سے روک دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں اس وقت امن منصوبے کے تحت اقوام متحدہ کے دو سو ستانوے غیر مسلح مبصرین موجود ہیں

شام میں اقوام متحدہ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت انہیں القبیر قصبے میں جانے سے روک رہی ہے جہاں پر اٹھہتر افراد کے قتل عام کی اطاعات مل رہی ہیں۔

شام میں اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ’مبصرین کو شامی فوج کی چیک پوسٹوں پر روکا جا رہا ہے اور بعض معاملات میں انہیں واپس بھیجا جا رہا ہے۔‘

شام میں ایک اور قتل عام، حما میں اٹھہتر افراد ہلاک

مشن کے سربراہ جنرل رابرٹ موڈ نے کہا کہ مبصرین حما شہر کے قریب واقع گاؤں میں جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حما میں عام شہری بھی مبصرین کی گاڑیوں کو روک رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ’علاقے کے رہائشیوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گاؤں میں داخل ہونے پر مبصرین کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔‘

’ان تمام مشکلات کے باوجود مبصرین گاؤں میں جانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہاں زمینی حقائق کا جائزہ لیا جا سکے۔‘

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے شامی صدر بشار الاسد سے فوری طور پر اقتدار سے الگ ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بدھ کے پرتشدد واقعے میں حکومت ملوث ہے۔

اس سے پہلے شام میں حزب اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کے حکومت کی حامی فورسز نے حما میں عورتوں اور بچوں سمیت اٹھہترافراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

شام میں حزبِ اختلاف کے اتحاد شامی قومی کونسل کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ قتلِ عام القبیر اور مارزاف نامی دو دیہاتوں میں ہوا ہے اور ہلاک ہونے والوں میں بیس سے زائد بچے اور اتنی ہی تعداد میں خواتین شامل ہیں۔

شام کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ فوج کو ’دہشتگردوں‘ کے خلاف کارروائی کے بعد کچھ لاشیں ملی ہیں۔

تاہم آزاد ذرائع سے دونوں جانب سے ملنے والی اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

لگ بھگ دو ہفتے قبل ہی شام میں حولہ نامی قصبے میں ایک سو آٹھ افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا جن میں بڑی تعداد میں بچے شامل تھے۔

اس واقعے کے لیے عینی شاہدین حکومت کی حامی ملیشیا کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ایسا مسلح گروپ کر رہے ہیں تاکہ شام کے خلاف غیر ملکی فوجی طاقت کے استعمال کا جواز فراہم کیا جا سکے۔

بدھ کو شام میں حزبِ مخالف کے کارکنوں نے اطلاعات دی ہیں کہ قبیر نامی گاؤں پر سکیورٹی فورسز نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا اور وہاں بمباری بھی کی گئی تاہم انہوں نے بتایا کہ زیادہ قتلِ عام حکومت کی حامی ملیشیا نے کیا۔ یہ لوگ حکومت کے حامی قریبی دیہاتوں سے آئے تھے۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کو بہت قریبی سےگولیاں ماری گئیں اور چاقو کے وار کیے گئے۔ مرنے والوں میں دو سال سے کم عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔

Image caption سکیورٹی فورسز نے عوام کی جانب سے مدد کی اپیل کے بعد القبیر میں ’مسلح دہشتگردوں کے گڑھ‘ پر حملہ کیا: شامی حکومت

بدھ کو شام کے سرکاری ٹی وی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے عوام کی جانب سے مدد کی اپیل کے بعد القبیر میں ’مسلح دہشتگردوں کے گڑھ‘ پر حملہ کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز کو دو خواتین اور کئی بچوں کی لاشیں ملیں جو طبی حکام کے مطابق اس وقت ہلاک ہوئے جب مسلح دہشتگرد گروپ گاؤں میں موجود تھے۔

ادھر سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ شام میں قیامِ امن کے لیے کوشاں اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان جمعرات کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیں گے کہ وہ شام میں جاری تشدد کے خاتمے کے لیے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور خطے کی اہم طاقتوں پر مشتمل نیا رابطہ گروپ تشکیل دے۔

اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار نادا توفیق کے مطابق کوفی عنان چاہتے ہیں کہ اس معاملے میں ترکی اور ایران جیسے ممالک کو بھی شامل کیا جائے لیکن امریکی وزیرِ خارجہ پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ ان معاملات میں ایران جیسے ممالک کو شامل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں