مصر: آئین کی تیاری کے لیے پینل پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آئین بنانے والا پینل سو ارکان پر مشتمل ہوگا

مصر میں کئی ہفتوں کے جمود کے بعد سیاسی جماعتیں ملک کا نیا آئین تیار کرنے والے پینل کے طریقۂ انتخاب پر متفق ہوگئی ہیں۔

ملک کا گزشتہ آئین سابق صدر حسنی مبارک کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق اس بات چیت میں ملک کے فوجی حکمران حسن طنطاوی اور بائیس سیاسی جماعتوں کے نمائندے شریک تھے اور بات چیت میں یہ فیصلہ بھی ہوا ہے کہ پینل کے کسی بھی فیصلے کے نفاذ کے لیے اسے سڑسٹھ فیصد ارکان کی حمایت حاصل کرنا لازم ہوگا۔

اس اتفاقِ رائے کے بعد امید ہے کہ آئندہ ہفتے ان ارکانِ اسمبلی کا چناؤ ہو جائے گا جو اس پینل کے رکن ہوں گے۔

مصر میں آئین کی تیاری کے لیے بنایا گیا گزشتہ پینل دس اپریل کو اس وقت تحلیل کر دیا گیا تھا جب لبرل اور سیکولر خیالات کے حامیوں نے یہ کہتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کر دیا تھا کہ اس پینل میں اسلام پسندوں کا غلبہ ہے۔

آئین بنانے والا پینل سو ارکان پر مشتمل ہوگا اور اس میں سیاسی رہنما، فوج، عدلیہ اور ٹریڈ یونینز کے نمائندوں کے علاوہ مسلمان اور عیسائی مذہبی رہنما بھی شامل ہوں گے۔

اس پینل کے انتخاب پر اتفاقِ رائے فوج کی جانب سے منگل کو اڑتالیس گھنٹے کی ڈیڈ لائن طے کیے جانےکے بعد ہوا۔ مصری فوج نے متنبہ کیا تھا کہ اگر اس دوران پینل کی تشکیل کے طریقے پر اتفاق نہ ہوا تو وہ خود ہی ایک طریقۂ کار تجویز کر دے گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مصری ارکانِ اسمبلی کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس پینل میں انتالیس ارکان کا تعلق پارلیمان کے ایوانِ زیریں سے ہوگا جہاں اسلام پسند جماعتوں کی اکثریت ہے۔

اس کے علاوہ چھ ارکان عدلیہ سے لیے جائیں گے اور نو نشستیں قانونی ماہرین اور ایک ایک نشست فوج، پولیس اور وزارتِ انصاف کو دی جائے گی۔

یونینوں سے تیرہ ارکان لیے جائیں گے جبکہ منگل کو ایک اجلاس میں چنی جانے والی اکیس عوامی شخصیات بھی پینل کا حصہ ہوں گی۔ اس کے علاوہ ملک کی سنّی اتھارٹی الازہر کو پانچ جبکہ عیسائی گرجا گھروں کو چار نمائندے بھیجنے کی اجازت ہوگی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مصر میں مسودۂ آئین کی تیاری میں اہم ترین زیرِ بحث موضوع یقیناً یہی ہوگا کہ اس میں کس حد تک اسلامی قوانین کی پاسداری کی جائے گی۔

اس آئین میں مصر کے مذہبی اور نسلی اقلیتی گروہوں کے حقوق کے علاوہ صدر اور پارلیمان کے درمیان طاقت کا توازن بھی طے کیا جائے گا۔

مصر میں رواں ماہ کی سولہ اور سترہ تاریخ کو صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ بھی منعقد ہونا ہے جس میں ووٹر اخوان المسلمون کے امیدوار محمد مرسی اور سابق وزیراعظم احمد شفیق میں سے کسی ایک کو ملک کا نیا صدر چنیں گے۔

اسی بارے میں