’پنیٹا کے بیانات سے مشکلات پیدا ہوں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption بیانات کو پاکستان میں بہت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے: شیری رحمان

امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ امریکی وزیرِ دفاع کے پاکستان کے بارے میں حالیہ بیانات دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے حال ہی میں پہلے بھارت اور پھر افغانستان کے دورے کے دوران پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

انہوں نے متنبہ کیا تھا کہ پاکستان میں شدت پسندوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں کے حوالے سے واشنگٹن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف ہر صورت میں کارروائی کرے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں شیری رحمان نے کہا کہ اس قسم کے بیانات سے باہمی اختلافات کو کم کرنے کی کوششوں میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ ’امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر رکن کی جانب سے اس قسم کے عوامی بیانات کو پاکستان میں بہت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور ان سے ایک ایسے وقت میں باہمی اختلافات میں کمی کے امکانات کم ہوئے ہیں جب بات چیت ایک نازک موڑ پر ہے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ اس (تعلقات میں بہتری کے) عمل میں غیرمددگار ثابت ہو سکتا ہے اور ہم جمود توڑنے کی جو کوششیں کر رہے ہیں اس سے انہیں نقصان پہنچ سکتا ہے‘۔

خیال رہے کہ لیون پنیٹا نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان پر زور دینے سے قبل دورۂ بھارت کے دوران کہا تھا کہ پاکستان میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے جاری رہیں گے اور یہ کہ امریکہ کے خلاف گیارہ ستمبر کے حملوں کی سازش تیار کرنے والی قیادت پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہے۔

انہوں نے پاکستان سے باہمی تعلقات کو ’پیچیدہ’ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرون حملوں کے بارے میں ’ہم نے یہ بالکل واضح کردیا ہے کہ ہم اپنا دفاع کرتے رہیں گے‘۔

پاکستان اکثر یہ شکایت کرتا ہے کہ ڈرون حملوں سے اس کے سالمیت کی خلاف ورزی ہوتی ہے لیکن لیون پنیٹا نے کہا تھا کہ یہ امریکی سالمیت کا بھی سوال ہے اور ڈرون حملوں کا تعلق صرف امریکہ کے تحفظ سے ہی نہیں ہے بلکہ شدت پسند پاکستانیوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

اسی بارے میں