سیف سے ملاقات کے بعد وکیل ’گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سیف الاسلام کو گزشتہ برس نومبر میں حراست میں لیا گیا تھا

لیبیا میں سیف الاسلام قذافی سے ملاقات کرنے والے عالمی عدالتِ جرائم یا آئی سی سی کے چار رکنی وفد میں شامل ایک خاتون وکیل کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق آسٹریلوی خاتون وکیل میلنڈا ٹیلر نے زنتان نامی قصبے میں لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سے ملاقات کے بعد تحویل میں لیا گیا۔

ان پر جمعہ کو ملاقات کے دوران سیف قذافی کے لیے پیغام رسانی کرنے اور انہیں خفیہ طور پر دستاویزات مہیا کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور اسی سلسلے میں ملینڈا ٹیلر اور کم از کم ان کے ایک ساتھی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

جرائم کی عالمی عدالت اور لیبیائی حکام دونوں سیف قذافی پر ان کے والد کے دور میں کیے گئے جرائم پر مقدمہ چلانا چاہتے ہیں۔

جرائم کی عالمی عدالت کے لیے لیبیا کے نمائندے احمد الجہانی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’وہ جیل میں نہیں ہیں اور انہیں ایک گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا ہے جہاں ان کے ساتھی ان کے ہمراہ ہیں‘۔

زنتان میں موجود بی بی سی کی رعنا جواد کے مطابق سیف الاسلام جس بریگیڈ کی حراست میں ہیں، اس کے ارکان کا کہنا ہے کہ انہیں جو دستاویزات ملی ہیں جن میں سیف کے ایک سابق معتمد کا خط بھی ہے جو اس وقت مصر میں موجود ہیں۔

بریگیڈ کمانڈر کا کہنا ہے کہ طرابلس میں موجود حکام نے آئی سی سی کے نمائندوں کو رہا کرنے کی درخواست کی ہے لیکن وہ اٹارنی جنرل کے دفتر کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات تک زنتان میں زیرِ حراست رہیں گے کیونکہ جرم کا ارتکاب یہیں ہوا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بریگیڈ کمانڈر نے قبضے میں لی جانے والی دستاویزات کی جھلک تو دکھائی لیکن انکا تفصیلی جائزہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔

سیف الاسلام کو گزشتہ برس نومبر میں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ لیبیا سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان پر جرائم کی عالمی عدالت نے انسانیت کے خلاف جرائم کی فردِ جرم عائد کی ہے۔

تاحال لیبیا کی عبوری حکومت نے انہیں مقدمے چلانے کے لیے جرائم کی عالمی عدالت کے حوالے کرنے سے انکار کیا ہے اور ان کا اصرار ہے کہ سیف پر لیبیائی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہیے۔