یورپ کا مالیاتی بحران سپین کے دروازے پر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یورپ میں حکومتیں جاری مالیاتی بحران پر قابو پانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

یورو زون ممالک کے وزرائے خزانہ سپین میں پھیلتے ہوئے مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی اجلاس میں شریک ہوں گے جہاں سپین کے بینکوں کے لیے امدادی قرضوں کے معاملے پر غور کیا جائے گا۔

بی بی سی کو یورپی یونین کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سپین کی جانب سے امداد کی سرکاری درخواست آئندہ دو روز میں کی جا سکتی ہے۔

ابھی تک سپین ان اطلاعات کی تردید کرتا رہا ہے کہ اس کے بینکوں کی امداد کے لیے یورپی سطح پر معاملات طے کرنے کے قریب ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ سپین کے بینکوں کو کم از کم چالیس ارب یورو کی ضرورت ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ان کے جائزے کے مطابق سپین کا مالیاتی سیکٹر ایک اچھے طریقے سے چلایا جا رہا ہے تاہم یہ خطرات سے ابھی تک باہر نہیں۔

وزرائے خزانہ کے اجلاس کا ہفتے کو شروع ہونے کا امکان ہے۔

پرتگالی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے یوروپین سنٹرل بینک کے نائب صدر ویتر کونستانچیو کا کہنا تھا ’یہ بات متوقع ہے کہ سپین اپنے بینکوں کو سرمایہ فراہم کرنے کے لیے امداد کی درخواست کرئے۔‘

سپین میں موجود بی بی سی کے ٹوم برریج کا کہنا ہے کہ سپین پر دباؤ ہے کہ وہ آئندہ ہفتے کے آخر میں یونان میں انتخابات کے نتیجے سے پیدا ہونے والی ممکنہ غیر یقینی صورتحال سے پہلے ہی اپنا فیصلہ کر لے۔

تاہم سنیچر کی صبح سپین کی حکومت نے اپنا موقف ایک بار پھر دہرایا تھا کہ اسے اپنے بینکوں کو بچانے کے لیے بیرونی امداد کی ضروت نہیں۔

سپین کی وزارتِ اقتصادی امور کی ایک ترجمان نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ابھی تک (اس موقف میں) کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

سپین کے وزیراعظم ماری آنو راہوئے نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ کوئی فیصلہ تب تک نہیں کیا جائے گا جب تک سپین کے بینکاری نظام پر جاری ایک تفصیلی جائزہ مکمل نہیں ہوجاتا۔ اس جانچ پڑتاک کے نتائج دو ہفتے بعد متوقع ہیں۔ اس جائزے سے یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ سپین کے بینکوں کو کل کتنی رقم درکار ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق چونکہ سپین پہلے ہی سخت کفایت شعاری کے اقدامات کر چکا ہے، کوئی بھی ممکنہ امداد زیادہ شرائط کے ساتھ نہیں دی جائے گی۔ یونان، پرتگال اور آئرلینڈ کو دی گئی امداد کے ساتھ شرائط لاگو تھیں۔ .

اسی بارے میں