چرچ آف انگلینڈ کی ہم جنس شادیوں پر تنبیہ

فائل فوٹو، ہم جنس پرست تصویر کے کاپی رائٹ NA
Image caption ہم جنس پرست شادیوں سے متعلق مشاورت کے نتائج رواں سال کے اختتام پر جاری کیے جائیں گے

چرچ آف انگلینڈ نے خبردار کیا ہے کہ ہم جنس شادیوں کی قانونی طور پر اجازت دینے کی تجاویز کی وجہ سے اس کی حیثیت کمزور ہو جائے گی۔

چرچ آف انگلینڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق سول تقریبات کو شادی کا درجہ دینے کے نتیجے میں چرچ کا ریاستی ایماء پر شادیاں کرانے کا اہم کردار ختم ہو کر رہ جائے گا۔

دوسری طرف برطانیہ کے دفتر داخلہ کا کہنا ہے کہ مذہبی اداروں کا ہم جنس شادیوں میں کوئی کردار نہیں ہو گا لیکن چرچ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کو یورپی عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

دفتر داخلہ کا کہنا ہے کہ مذہبی ادارے ہم جنس شادیاں نہیں کرائیں گے اور اس حوالے سے تمام پہلوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

چرچ آف انگلینڈ کے مطابق حکومت کی ہم جنس شادیوں سے متعلق تجاویز ایک ادارے کو کمزور کر دیں گی جو کہ ایک صحت مند معاشرے کے لیے بہت ضروری ہیں۔

انگلینڈ اور ویلز میں اس مسئلے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے مانگی گئی رائے کے جواب میں چرچ آف انگلینڈ نے اس ضمن میں قانون سازی کو کمزور قرار دیا ہے۔

یہ تجاویز مذہبی اداروں کو ہم جنس شادیاں کرانے کے حق میں نہیں۔ چرچ آف انگلینڈ کا کہنا ہے کہ ہم جنس شادیوں کی اجازت دینے کی صورت میں ایک ادارہ جس نے صدیوں سے خاص طور پر خاتون اور مرد فرق قائم کر رکھا ہے، اس کی وجہ سے یہ کھوکھلا ہو جائے گا۔

ہم جنس پرستی کے حق میں کام کرنے والی تنظیموں نے چرچ پر سنسی یا خوف پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔

چرچ کا کہنا ہے کہ’ایک ادارہ جو معاشرے کے لیے وسیع پیمانے پر فائدہ مند ہے اور اس کو ایک سیاسی ضرورت کے لیے نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور اس کو جان بوجھ کر اس طرح پیش کیا جا رہا ہے کہ یہ ایسی چیز ہے جس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔‘

چرچ کے حکام کے مطابق ایک نہایت اہم مسئلے پر مشاورت’ کام کرنے کا بہت ہی ہلکا طریقہ ہے۔‘

چرچ کے مطابق ایک روایتی شادی جس میں نسل بڑھانے پر توجہ ہوتی ہے اور اس پر قائم رہنے کی ضرورت ہوتی اور یہ وہ چیزیں ہیں جو کہ ہم جنس پرست شادی کی صورت میں نہیں ہو سکتی ہیں، شادی کے بارے میں مختلف اتفاق رائے قائم کرنے سے روایتی شادی کا ادارہ کمزور ہو جائے گا اور اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے کہ اس معاملے کی جانب بند آنکھیں بند کر کے بڑھا جائے۔

ٹوری پارٹی کی رکن پارلیمان کرسپن بلونٹ نے حکومتی ادارے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ’ تحفظ دینے اور مذہبی تنظیموں کو ہم جنس شادیوں سے دور رکھنے کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ قانونی طور پر پیچیدگی ہو۔

انہوں نے بی بی سی ریڈیو فور ٹو ڈے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس مسئلے کو یورپی عدالت میں لے جایا جاتا ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ جج اس بات پر متفق ہوں کہ کسی بھی مذہبی ادارے کو مجبور کیا جائے کہ وہ ہم جنس پرست شادیاں کروائے۔

ہم جنس شادیوں کے حق میں مہم چلانے والی ایک غیر سرکاری تنظیم سٹون ویل کے سربراہ بن سمرسکیل کا کہنا ہے کہ واضح طور پر اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ ایک لمبے عرصے کے لیے ہم جنس تعلقات کو تسلیم کرنے سے روایتی شادیوں کے ادارے پر کوئی فرق پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ’یہ بات قابل حیرانگی ہے کہ چرچ آف انگلینڈ چند ہزار ہم جنس پرست جوڑوں پر کسی وہم کا شکار ہو جائے جبکہ اس وقت برطانیہ میں تیس لاکھ بچے صرف اپنے والدہ یا والد کے ساتھ رہتے ہیں۔‘

برطانوی دفتر داخلہ کے مطابق یہ بات واضح کر دی گئی ہے ہماری تجاویز میں کسی بھی مذہبی ادارے کو اس بات پر مجبور نہیں کیا گیا کہ وہ ہم جنس شادیاں کرائیں۔

’ہم چرچ آف انگلینڈ کے جواب کا خیر مقدم کرتے ہیں اور رواں سال کے اختتام پر مشاورت سے حاصل ہونے والے نتائج جاری کرنے سے پہلے تمام نکات کا احتیاط سے جائزہ لیا جائے گا۔

اسی بارے میں