شام: حفا دوبارہ حکومتی کنٹرول میں

تصویر کے کاپی رائٹ AP

شام کی حکومت نے کہا ہے کہ اس کی افواج نے باغیوں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد مغربی ضلے حفا کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حفا کو دہشت گردوں سے صاف کر کے وہاں سکون قائم کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اقوامِ متعدہ کے معائنہ کاروں پر حفا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران فائرنگ کی گئی تھی جس کے بعد انہیں واپس لوٹنا پڑا تھا۔

دریں اثناء فریقین نے اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار کے شام کے بارے اس بیان کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شام خانہ جنگی کی حالت میں ہے۔

شامی حکومت کا اصرار ہے کہ اس کی فوج دہشت گرد گروہوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے جبکہ باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ شام کے صدر بشارالاسد کے خلاف پر امن بغاوت کا دفاع کر رہے ہیں۔

شامی حکومت کی مخالف فری سیرین آرمی نے بدھ کو کہا تھا کہ انہوں نے حفا اور قربیی دیہاتوں میں عام شہریوں کو شامی حکومت کی بمباری سے بچانے کے لیے اپنے جنگجوؤں کو نکال لیا تھا۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کےمعائنہ کار اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان کی جانب سے پیش کیے جانے والے امن منصبوبے پر عملدرآمد کروانے کے لیے شام میں موجود ہیں۔تاہم شام میں مجوزہ جنگ بندی پر ابھی تک عمل نہیں ہو سکا۔

اس سے پہلے حقوق انسانی کے کارکنوں نے کہا تھا کہ شامی حکومت نے دو ہفتے قبل حولہ نامی قصبے میں ایک سو آٹھ افراد کو ہلاک کر کیا تھا جن میں بڑی تعداد میں بچے شامل تھے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشارالاسد کے خلاف گزشتہ سال مارچ میں شروع ہونے والے احتجاج میں کم از کم نو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں