مصر: عدالت کے فیصلے پر سیاسی حلقوں میں بے چینی

تحریر چوک تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عدالت کے اس حکم کے بعد مظاہرین قاہرہ میں تحریر چوک میں جمع ہو گئے۔

مصر میں سپریم کورٹ کی جانب سے پارلیمان کو تحلیل کرنے اور نئے انتخابات کرانے کی سفارش نے سیاسی حلقوں میں بڑے پیمانے پر بے چینی پیدا کر دی ہے۔

ملک کی عدالت نے گزشتہ سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو غیر قانونی قرارا دیدیا ہے جبکہ دو دن بعد ہی مصر کے لوگ ملک کے نئے صدر کا انتخاب کرنے والے ہیں۔

تاہم دوسری سیاسی شخصیات نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فوج اپنی طاقت میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔

مسلم برادرہڈ کےایک اور سینئیر سیاسی رہنما عسام العرین کا کہنا ہے کہ پارلیمان کے بارے میں اس طرح کا حکم مصر کو ایک اندھیری سرنگ میں دھکیل دے گا۔

برادرہڈ کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے تین ماہ کے پارلیمانی انتخابات میں 46 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔

مسٹر عسام کا کہنا ہے کہ عدالت کی اس سفارش کے بعد نئے صدر کے پاس نہ تو پارلیمان ہوگی اور نہ ہی آئین۔

عدالت کے اس حکم کے بعد مظاہرین قاہرہ میں تحریر چوک میں جمع ہو گئے۔

صلفیوں کی النور پارٹی جو پارلیمان میں، دوسری سب سے بڑی پارٹی ہے ، کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عوام کی آزادانہ رائے کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

پارلیمان کے سپیکر کا کہنا ہے کہ پارلیمان کو تحلیل کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے۔

ایک علیحدہ حکم میں عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ سابق وزیرِاعظم احمد شفیق صدر کے عہدے کے لیے الیکش میں حصے لے سکتے ہیں انہوں نے اس قانون کو غیر آئینی قراد دیا جس کے تحت وہ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔

پارلیمان کی جانب سے منظور شدہ اس قانون کے تحت سابق صدر حسنِ مبارک کی دور میں سینئیر عہدوں پر کام کرنے والے سابق عہدیداروں کو صدر کے عہدے کے لیے الیکشن لڑنے سے روکا گیا تھا۔

مصر کی حکمران فوجی کونسل نے عدالت کے ان دو اہم فیصلوں کے بعد ایک ہنگامی اجلاس کیا جس کے بعد اس بات کی تصدیق کی کہ صدارتی الیکش طے شدہ وقت پر ہی ہونگے اور لوگوں سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔

فوج کی نیت کے بارے میں پہلے ہی اس وقت سےشبہات ظاہر کیے جا رہے تھے جب بدھ کے روز وزارتِ انصاف نے اعلان کیا تھا کہ انتخابات کے دوران فوجی اہلکاروں کو شہریوں کو حراست میں لینے کا اختیار ہوگا۔