شامی حکومت پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حقوقِ انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے الزام عائد کیا ہے کہ کہ شام کی حکومت ملک میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہےکہ تنظیم کے تحقیق کاروں نے اپریل کے وسط سے تیئس قصبوں اور دیہاتوں کے دو سو سے زیادہ رہائیشیوں سے بات کی ہے، جس سے معلوم ہوا ہے کہ بعض علاقوں میں شامی حکومت نے شہریوں کے خلاف انتہائی سخت کارروائیاں کی ہیں۔

ان کاروائیوں میں شہریوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنا، ان پر تشدد کرنا، کھیتوں اور گھروں کو جلانا اور مال مویشیوں کو ہلاک کرنا بھی شامل ہیں۔

ایمنسٹی کی اعلٰی اہلکار دونتیلا روویرا نے کہا ہےکہ شامی حکومت شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’میں نے دو ماہ میں شام کے کئی دورے کئے ہیں۔ میرا زیادہ وقت شمال میں گزرا، ادلیب اور حلب کے علاقوں میں، جہاں صورتِ حال حالیہ ماہ میں بہت بگڑ گئی ہے۔ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، انہیں حکومتی فورسز جان بوجھ کر ہدف بنا رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’شامی سکیورٹی فورسز قصبوں اور دیہاتوں پر بم باری کر رہی ہیں، لوگوں کے گھروں میں جا رہی ہیں، نوجوان لڑکوں کو گھر سے نکال کر ان کے خاندان کے سامنے انہیں فائرنگ کر کے ہلاک کیا جا رہا ہے۔ان کے گھروں کو جلا رہے ہیں۔‘

ادھر شام کے خلاف سخت کارروائی کے لیے روس پر عالمی دباؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے شام کے مسئلے پر مثبت رویہ اختیار نہیں کیا تو خطے میں اس کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔

واشنگٹن میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس کہتا ہے کہ وہ شام میں امن استحکام چاہتا ہے اور مشرقِ وسطی میں وہ اپنے مفادات اور اہم تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے ، محترمہ کلنٹن نے کہا کہ اگر روس ذمہ دارانہ رویہ اختیار نہیں کرتا تو اسے ان تعلقات اور مفادات سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ نے روس پر شام کو ہیلی کاپٹر مہیا کرانے کا الزام لگایا تھا جس کی روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لیواروف نے سختی سے تردید کی تھی۔

تہران کے اپنے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ روس، شام یا کسی دوسرے ملک کو ایسے کوئی بھی ہتھیار سپلائی نہیں کر رہا جو مظاہرین کے خلاف استعمال کیے جا سکیں انہوں نے مزید کہا کہ اس کے برعکس امریکہ لگاتار خطے میں اسلحہ مہیا کر رہا ہے۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ کے بیان کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ نے روس سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئے۔

تاہم روس اور چین چیپٹر سات کی قرارداد پر رضامند نہیں ہونگے جس کے تحت طاقت کے استعمال اجازت دینے کی بات کی گئی ہے۔

اسی بارے میں