سٹینفورڈ کو ایک سو دس سال قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کرکٹ کے شوقین ارب پتی سر ایلن سٹینفورڈ نے ماضی میں کہا تھا کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ فٹبال کی جگہ دنیا کا مقبول ترین کھیل بن سکتی ہے۔

معروف امریکی کاروباری شخصیت ایلن سٹینفورڈ کو ایک ’پونزائی‘ (فراڈ) سکیم چلانے کے جرم میں ایک سو دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ایلن سٹینفورڈ کی جعلسازی کی سکیم کا حجم سات ارب ڈالر تک تھا۔امریکی تاریخ کی یہ سب سے بڑی فراڈ کی سکیموں میں سے ایک ہے۔

مقدمے میں ایلن سٹینفورڈ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے عدالت سے کہا کہ انہوں نے کسی کو دھوکہ نہیں دیا۔

ٹیکسس سے تعلق رکھنے والے بینکار ایلن سٹینفورڈ کو شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے برطانیہ اور کیربیئن کے علاقے میں کرکٹ ٹورنامٹنوں کی سرمایہ کاری کرنا سروع کی۔

تاہم جب ان کا برطانیہ میں ایک ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کا منصوبہ پایہِ تکمیل تک نہ پہنچ سکا تو ان کو مالی مشکلات ہونے لگیں۔ دوسری جانب امریکی حکام نے ان کی مالی معاملات کی تفتیش شروع کر دی تھی۔

فوربز میگزین نے انہیں سنہ دو ہزار چھ میں دنیا کے چھ سو پانچواں امیر ترین شخص قرار دیا تھا۔

تاہم انہوں نے سنہ دو ہزار نو میں گرفتاری کے بعد سے تین سال قید میں ہی گزارے ہیں کیونکہ ان کی ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

ایلن سٹینفورڈ کی پونزائی سکیم کا مرکز کرابیئن کے ملک اینٹیگوا میں ایک بینکاری فراڈ تھا۔

اس سکیم میں تقریباً تیس ہزار افراد کو دھوکہ دیا گیا۔ استغاثہ کو ایلن سٹینفورڈ کے تقریباً بانوے فیصد اثاثے نہیں ملے جن کا وہ دعویٰ کرتے تھے۔

جمعرات کو عدالت کو دیے گئے بیان کے مطابق ایلن سٹینفورڈ نے کہا ’میں یہاں معافی یا رحم مانگنے نہیں آیا۔ میں نے کوئی پونزائی سکیم نہیں چلائی اور نہ ہی کسی کو دھوکہ دیا ہے۔‘

اسی بارے میں