نو سالہ بچی کے بلاگ پرایک لاکھ ڈالر جمع

نو سالہ بچی مارتھا پین
Image caption اسکاٹ لینڈ کی مارتھا پین کا بلاگ نیورسکنڈس ہے

اسکاٹ لینڈ کی ایک نو سالہ بچی مارتھا پین نے سکولوں میں ملنے والے کھانے پر لکھے اپنے بلاگ کے ذریعے صرف چوپیس گھنٹوں میں ہی لگ بھگ ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم اکٹھی کر لی ہے۔

آرگائل شہر کی رہنے والی مارتھا پین کے بلاگ ’نیورسکنڈز‘ کو پچاس لاکھ لوگوں نے دیکھا جو کہ اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔ وہ اس بلاگ میں سکول میں ملنے والے کھانے کی تصاویر اتارتی تھیں اور اس کے معیار پر نمبر دیتی تھیں۔

جب اس بلاگ کو اخباروں اور میڈیا میں جگہ ملی تو سکول کے کیٹرنگ سٹاف کی نوکریاں جانے کا خطرہ لاحق ہو گیا اور سکول انتظامیہ نے مارتھا کو کھانے کی تصاویر لینے سے روک دیا۔ لیکن اس پابندی کی خبر سے اس بلاگ کو زیادہ شہرت ملی اور اس کا ذکر دور دور تک پہنچ گیا۔

جب لوگوں کی جانب سے دباؤ بڑھا تو انھوں نے یہ پابندی ہٹا لی اور اس کے بعد جیسے ہی مارتھا نے کھانے کی تصویر اپنے بلاگ پر ڈالی ویسے ہی پیسوں کر برسات ہوگئی۔

یہ پیسے برِّ اعظم افریقہ کے ملک ملاوی میں ایک سکول کی امداد کے لیے جمع کیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل ملاوی میں سکول میں طعام کے لیے ساڑھے تین ہزار ڈالر ہی جمع ہوسکے تھے۔

مارتھا کے بلاگ پر لاکھوں لوگوں کا آنا اور تعاون کرنا اس بات کا ضامن ہے کہ وہ ملاوی کے سکول میں بچوں کے لیے کھانے کا انتظام کر سکیں گی۔

اس کے ساتھ ہی وہ اس امداد کے ذریعے ملاوی کے دوہزار طلبہ کے سال بھر کے کھانے کے خرچ کے ساتھ ترقی پذیر ممالک میں رہنے والے چار ہزار بچوں کے اخراجات بھی اٹھا پائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Arquivo pessoal
Image caption ملاوی کے اسکول کے لیے رقم جمع کرنے کے لیے یہ مہم جاری ہے۔

بہرحال آرگائل اور بیوٹ کونسل کے سربراہ نے بی بی سی سے کہا انھوں نے اعلیٰ حکام کو اس پر سے پابندی ہٹانے کے لیے فوری طور پر کہا تھا۔

طالبہ مارتھا پین کے والد ڈیوڈ پین نے انہیں یہ بلاگ بنانے میں مدد کی تھی۔

مارتھا کے بلاگ کا مقصد میری میلس چیریٹی کے لیے پیسے اکٹھا کرنا تھا۔ لیکن مارتھا نے جمعرات کو اپنے بلاگ میں لکھا تھا کہ ان کی ایک ٹیچر نے انھیں اپنے بلاگ کے لیے فوٹو لینے سے منع کر دیا ہے۔

اس بلاگ کا عنوان ’گڈ بائے‘ تھا اور اس میں لکھا تھا: ’آج صبح میری حساب کی کلاس کے دوران مجھے ہیڈ ٹیچر اپنے دفتر لے گئیں، مجھے کہا گیا کہ میں آئندہ اپنے سکول ڈنر کی تصویر نہیں لے سکتی ہوں کیونکہ اس کے بارے میں اخبار میں ہیڈ لائن آئی ہے۔‘

اس پورے معاملے پر اسکاٹ لینڈ کے ایجوکیشن سکریٹری نے ٹوئیٹ کیا تھا کہ وہ اس فیصلے کو واپس لیے جانے کے بارے میں انتظامیہ کو لکھیں گے۔

مارتھا نے اتوار کو اپنے بلاگ پر شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں تمام لوگو ں کا شکریہ جلی حروف میں ادا کرتی ہوں۔‘

اسی بارے میں