مصر: صدارتی انتخاب میں ووٹنگ مکمل، گنتی جاری

مصر تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صدارتی انتخاب کے حتمی نتائج اکیس جون کو متوقع ہیں

مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد منعقد ہونے والے پہلے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے آخری اور حتمی دن ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے۔

اس انتخاب میں اسلام پسند امیدوار محمد مرسی کا مقابلہ مبارک دور کے وزیراعظم احمد شفیق سے ہے۔

یہ الیکشن ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب ملک کی حکمران فوجی کونسل نے ایک عدالتی فیصلے کے بعد سنیچر کو مصری پارلیمان کو تحلیل کر دیا تھا۔ کونسل نے یہ قدم اعلٰی ترین آئینی عدالت کے اس فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اٹھایا جس میں سنہ 2011 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔

اسلامی جماعت اخوان المسلمین نے پارلیمان کی تحلیل کے فیصلے کو غیر قانونی اور جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے انقلاب کا تحفظ کریں۔

ان پارلیمانی انتخابات میں اخوان المسلمین کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے ایوان میں تقریباً پچاس فیصد نشستیں حاصل کی تھیں۔

فوجی کونسل کے اس فیصلے سے ان خدشات کو بھی ہوا ملی ہے کہ کونسل طاقت کا مرکز بننا چاہتی ہے اور ان جمہوری تبدیلیوں کے خلاف ہے جن کا مطالبہ گزشتہ برس عوامی مظاہروں کے دوران کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ d
Image caption الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کے مطالبے پر مشتمل پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے ہیں

تاہم مصر کی حکمران فوجی سپریم کونسل کا کہنا ہے کہ وہ صدراتی انتخاب جیتنے والے امیدوار کو تیس جون تک اقتدار منتقل کر دے گی۔

نامہ نگاروں کے مطابق پارلیمان کو تحلیل کرنے کا مقصد غالباً مقصد یہ ہے کہ نئے صدر، پارلیمان اور ایک مستقل آئین کی غیر موجودگی میں آسانی سے اقتدار سنبھالیں تاکہ ان فرائض اور اختیارات پہلے سے طے نہ ہوں۔

بی بی سی کے نامہ نگار جان لین کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں وہ عوامی جوش و خروش دیکھنے کو نہیں ملا ہے جس کا مظاہرہ پہلے مرحلے کے دوران دیکھا گیا تھا۔ ووٹنگ کے مقررہ وقت میں دو گھنٹے کی توسیع کے بعد مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے ووٹنگ بند کر دی گئی۔

نامہ نگاروں کے مطابق ووٹنگ کے پہلے دن کی طرح اتوار کو بھی پولنگ مراکز پر نوجوان طبقہ موجود نہیں تھا۔ ایک اندازے کے مطابق دوسرے مرحلے میں ووٹنگ کی شرح چالیس فیصد کے قریب ہے جو پہلے مرحلے سے بھی کم ہے۔

مصر میں پانچ کروڑ بیس لاکھ افراد اس الیکشن میں ووٹ دینے کے اہل ہیں۔

ملک کے سرکاری ٹی وی کی جانب سے تو عوام سے ووٹنگ میں حصہ لینے کی اپیل کی گئی لیکن قاہرہ میں ٹرین سٹیشنوں پر اس الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کے مطالبے پر مشتمل پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ نتائج کا اعلان کب کیا جائے گا۔ تاہم اعلیٰ صدارتی الیکشن کمیشن کی طرف سے اکیس جون تک حتمی نتائج متوقع ہیں۔

اسی بارے میں