شام: امریکہ کی آئندہ کے اقدامات پر مشاورت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں امن منصوبے پر عمل درآمد کرانے کے لیے دو سو اٹھانوے فوجی اور ایک سو بارہ سول مبصر تعینات ہیں

امریکہ کا کہنا ہے کہ شام میں اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو معطل کیے جانے بعد وہ آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں اپنے بین الاقوامی اتحادیوں سے مشاورت کر رہا ہے۔

شام میں اقوام متحدہ کے مبصرین کے سربراہ جنرل رابرٹ موڈ نے اعلان کیا تھا کہ شام میں تشدد میں اضافے کے بعد وہاں تعینات مبصرین اپنا آپریشن روک رہے ہیں۔

تاہم جنرل رابرٹ موڈ کا کہنا تھا کہ شام میں اقوام متحدہ کا مشن اب بھی وہاں تشدد کے خاتمے کے عزم پر قائم ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹومی ویٹر نے شامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی ثالث کوفی عنان کے چھ نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد کرے۔

’اس نازک موڑ پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں شام میں اقتدار کی منتقلی کے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اپنے بین الاقوامی اتحادیوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔‘

عرب لیگ کے ترجمان احمد بن ہلی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ اقوام متحدہ کا مشن معطل کرنے کا فیصلہ عارضی ہے اور اس کو منسوخ کرنے کا اختیار اقوام متحدہ کے پاس ہے جو اس ضمن میں عرب لیگ سے مشاورت کرنے کے بعد فیصلہ کرے گا۔‘

شام میں اقوامِ متحدہ کے مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ شام میں تشدد میں اضافے کے پیشِ نظر مشن کا کام فی الحال بند کیا جا رہا ہے۔

ناروے کے جنرل رابرٹ موڈ کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے معائنہ کار فی الحال گشت نہیں کریں گے اور اس وقت جہاں ہیں وہیں رہیں گے۔

رابرٹ موڈ نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے معائنہ کار شدید حالات کے سبب اپنا کام ٹھیک طرح نہیں کر پا رہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ مشن شام میں تشد کے خاتمے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

خیال رہے کہ شام میں کوفی عنان کے امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے دو سو اٹھانوے فوجی مبصر اور ایک سو بارہ سویلین مبصر تعینات ہیں۔

دوسری جانب شام میں حزب مخالف کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ملک میں تشدد کے مختلف ساٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حزب اختلاف کے کارکنوں کے مطابق سب سے زیادہ پرتشدد واقعات دارالحکومت دمشق کے مضافات میں پیش آئے۔

خیال رہے کہ شام میں غیر ملکی صحافیوں کو رسائی حاصل نہیں ہے اس لیے ہلاکتوں کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔

اسی بارے میں