نسلی امتیاز کی علامت روڈنی کنگ نہیں رہے

راڈنی کنگ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption راڈنی کنگ بیس سال قبل لاس اینجلس میں توجہ کا مرکز بنے تھے۔

بیس سال قبل امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں ہونے والے فسادات میں توجہ کا مرکز بنے والے افریقی نژاد امریکی شہری روڈنی کنگ اتوار کو مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔

سینتالیس سالہ روڈنی کنگ کی منگیتر نے ان کی لاش سوئمنگ پول میں پائی لیکن کسی قسم کی مجرمانہ سازش کا کوئی نشان نہیں ملا ہے۔

کنگ سن انیس سو اکیانوے میں پولیس کی زیادتیوں کا شکار ہوئے تھے لیکن تشدد میں شامل افسروں کو دوسرے سال تشدد کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔

جس کے نتیجے میں فسادیوں اور پولیس کے درمیان پرتشدد تصادم ہوا تھا اور قریب پچاس لوگ اس میں مارے گئے تھے اور ہزاروں لوگ زخمی ہوئے تھے اور کروڑوں ڈالر کی املاک کو نقصان پہنچا تھا۔

ریالٹو کے پولیس کیپٹن رینڈی ڈینڈا نے بتایا کہ اتوار کو کنگ اپنے سوئمنگ پول میں ’بے حس و حرکت‘حالت میں پائے گئے۔

سن انیس سو اکیانوے میں پولیس کے ہاتھوں روڈنی کنگ پر تشدد کی ویڈیو ایک راہگیر نے بنا لی تھی اور اسے دنیا بھر میڈیا پر دکھایا گیا تھا۔

تشدد کی وجہ سے روڈنی کے دماغ پر چھوٹ آئی تھی۔

تین مارچ سن انیس سو اکیانوے میں لاس اینجلس پولیس نے کنگ کو مقررہ حد سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ کار چلانے کے لیے روکا تھا اور چار پولیس اہلکاروں نے انہیں گھسیٹ کر کار سے باہر نکالا اور ڈنڈوں اور لاتوں سے انہیں مارا اور سٹین گن سے ان پر گولی چلائی۔

بی بی سی کے الیسٹر لیٹ ہیڈ کا کہنا ہے کہ پولیس کے تشدد کا یہ واقعہ علامتی بن گیا اور نسلی امتیاز کے اعتبار سے پہلے سے ہی حساس امریکی شہر لاس اینجلس پر اس واقعے کا گہرا اثر پڑا۔

بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اس طرح یہ واقعہ امریکہ میں نسلی امتیازات کے تئیں اس کے برتاؤ کو اجاگر کرنے والا ایک واقعہ بن گیا۔

اس کے بعد عدالتی کارروائی میں چار میں سے دو پولیس افسروں کو جیل ہوئی۔

کنگ نے لاس اینجلس سٹی پر مقدمہ کیا اور اسے ہرجانے کے طور پر اڑتیس لاکھ امریکی ڈالر معاوضہ ملا۔

اسی بارے میں