شفیلہ احمد کیس: قتل سے متعلق خط

شفیلیہ احمد تصویر کے کاپی رائٹ Divulgacao

شفیلہ احمد قتل کیس میں پیر کو عدالت میں وہ خط پیش کیا گیا جو شفیلہ کی بہن نے اپنی سہیلی کو لکھا تھا جس میں لکھا ہے کہ اس کے والدین نے ہی شفیلہ کو قتل کیا ہے۔

شفیلہ کے والدین باون سالہ افتخار اور انچاس سالہ فرزانہ سنہ دو ہزار تین میں برطانوی شہر وارنٹن میں اپنی بیٹی کو قتل کرنے کے الزام کی تردید کرتے ہیں۔

چیسٹن کراؤن کورٹ میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ اکیس سالہ مہوش احمد نے دو ہزار آٹھ میں اپنی ایک سہیلی کو خط میں لکھا ہے کہ کس طرح شفیلہ کے والدین نے اسے قتل کیا تھا۔

تاہم مہوش احمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف ایک کہانی لکھی تھی۔

وکیلِ استغاثہ اینڈریو ایڈس نے کہا کہ یہ دستاویز حال ہی میں مہوش کی دوست شاہین مینر نے پولیس کو دکھائے ہیں۔

استغاثہ نے مہوش احمد سے جو شفیلہ کے غائب ہونے کے وقت صرف بارہ سال کی تھیں پوچھا کہ ’ان کاغذ کے ٹکڑوں پر لکھا ہے کہ تمہارے والدین نے تمہاری بہن کو قتل کیا ہے۔‘ اس کے جواب میں مہوش نے کہا کہ ’یہ خط میری بہن کی موت کے بارے میں نہیں ہیں بلکہ ’خیالی تحریر‘ یا کہانی ہے۔‘

مہوش کا کہنا تھا کہ ’میں کہانی لکھتی ہوں، میں اور میری بہن علیشا کہانیاں لکھتے تھے جن کا تعلق ضروری نہیں کہ ہم سے ہو‘۔

مہوش کا کہنا تھا کہ انہوں نے شفیلہ کو گیارہ ستمبر دو ہزار تین کی شام کو آخری مرتبہ دیکھا تھا۔

مہوش نے کہا کہ انہیں لگتا تھا کہ شفیلہ گھر سے بھاگ گئی ہیں اور اپنے سکول کے دوستوں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔

مہوش شفیلہ کی دوسری بہن ہیں جنہیں عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

اس سے قبل شفیلہ کی بہن علیشا احمد نے دعوٰی کیا تھا کہ ان کے والدین نے ایک پلاسٹک بیگ سے منہ بند کر کے شفیلہ کو قتل کیا تھا۔

استغاثہ کا الزام ہے کہ شفیلہ کے والدین نے انہیں اس لیے قتل کیا کیونکہ ان کے خیال میں شفیلہ کا رہن سہن مغربی طرز کا تھا۔

شفیلہ کی لاش سنہ دو ہزار چار میں برطانوی علاقے کمبریا سے ملی تھی۔

اسی بارے میں