’محصور شہریوں کو نکلنے کی اجازت دی جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

شام میں اقوام متحدہ کے مبصرین کے سربراہ جنرل رابرٹ موڈ نے فریقین پر زور دیا ہے کہ شورش زدہ علاقوں سے خواتین، بچوں، زخمیوں اور عمر رسیدہ افراد کے انخلاء کی اجازت دی جائے۔

جنرل رابرٹ موڈ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حما شہر جو محاصرے میں ہے وہاں سے گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران عام شہریوں کو نکالنے کی متعدد بار کوشش کی گئی لیکن کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

حما سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں شامی فوج کی شدید بمباری جاری ہے۔

شام میں حقوق انسانی پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم کے مطابق حما شہر میں ایک ہزار سے زائد خاندانوں کو نکالنے یا انخلاء کی ضرورت ہے۔

جنرل موڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ’صدر بشارالاسد اور باغی جنگجووں اپنی پوزیشن پر لازمی نظرثانی کرتے ہوئے غیر مشروط طور پر خواتین، بچوں، عمر رسیدہ اور زخمی افراد کے انخلاء کی اجازت دیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ’ اس کے لیے فریقین میں شامی شہریوں کا احترام اور زندگیوں کے تحفظ کی خواہش ہونی چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں امن منصوبے پر عمل درآمد کرانے کے لیے دو سو اٹھانوے فوجی اور ایک سو بارہ سول مبصر تعینات ہیں

جنرل موڈ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک دن پہلے ہی اتوار کو انہوں نےاعلان کیا تھا کہ شام میں تشدد میں اضافے کے بعد وہاں تعینات مبصرین اپنا آپریشن روک رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شام میں تشدد میں اضافے کے پیشِ نظر مشن کا کام فی الحال بند کیا جا رہا ہے۔

ناروے کے جنرل رابرٹ موڈ کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے معائنہ کار فی الحال گشت نہیں کریں گے اور اس وقت جہاں ہیں وہیں رہیں گے۔

رابرٹ موڈ نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے معائنہ کار شدید حالات کے سبب اپنا کام ٹھیک طرح نہیں کر پا رہے۔

تاہم جنرل رابرٹ موڈ کا کہنا تھا کہ شام میں اقوام متحدہ کا مشن اب بھی وہاں تشدد کے خاتمے کے عزم پر قائم ہے۔

اس اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹومی ویٹر نے شامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی ثالث کوفی عنان کے چھ نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد کرے۔

’اس نازک موڑ پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں شام میں اقتدار کی منتقلی کے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اپنے بین الاقوامی اتحادیوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔‘

خیال رہے کہ شام میں کوفی عنان کے امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے دو سو اٹھانوے فوجی مبصر اور ایک سو بارہ سویلین مبصر تعینات ہیں۔

شامی حکومت کئی بار کوفی عنان کے امن منصوبے کے مکمل احترام کا اعلان کر چکی ہے اور اس کا الزام ہے کہ دہشت گرد اور ان کے بیرونی حمایتی تشدد کو ہوا دے رہے ہیں اور امن منصوبے کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں