جولین اسانژ ایکواڈور میں پناہ کے طلب گار

تصویر کے کاپی رائٹ PA

ایکواڈرو کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ خفیہ معلومات افشاء کرنے کے لیے مشہور ویب سائٹ وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ نے لندن میں ان کے سفارتخانے میں پناہ طلب کر لی ہے۔

کوئیٹو میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ ریکارڈو پٹینو کا کہنا تھا کہ جولین اسانژ کے مطابق انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کا ملک ’درخواست کا جائزہ لے رہا ہے اور اس پر غور کر رہا ہے‘۔

برطانوی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انہیں سرکاری طور پر مطلع کر دیا گیا ہے کہ اسانژ پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور وہ یہ معاملہ حل کرنے کے لیے ایکواڈور کے حکام سے رابطے میں ہے۔ دفترِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ’اب وہ سفارتی علاقے میں اور برطانوی پولیس کی پہنچ سے دور ہیں‘۔

گزشتہ ہفتے برطانیہ کی سپریم کورٹ نے اسانژ کی وہ درخواست رد کر دی تھی جس میں انہیں مبینہ جنسی جرائم پر سویڈن کے حوالے کیے جانے کے خلاف دوبارہ اپیل کرنے کو کہا گیا تھا۔ اسانژ جنسی جرائم کے ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

اسانژ اس وقت دو لاکھ ڈالر کی ضمانت پر تھے جس کے لیے رقم جمائما خان اور کین لوچ جیسے ان کے حامیوں نے جمع کروائی تھی۔

وکی لیکس کے بانی کے پاس ملک بدری کے فیصلے کے خلاف یورپی حقوقِ انسانی کی عدالت میں جانے کے لیے اٹھائیس جون تک کا وقت ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو انہیں سویڈن کے حوالے کرنے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔

سویڈن میں حکام اسانژ سے وکی لیکس کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرنے والی دو خواتین کی جانب سے دو ہزار دس کے وسط میں لگائے گئے جنسی زیادتی کی کوشش کے الزامات کے بارے میں تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ابھی تک اسانژ پر باقاعدہ طور پر کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی ہے۔

جولین اسانژ کا کہنا ہے کہ اس جنسی عمل میں فریقین کی رضامندی شامل تھی۔

منگل کو ایک بیان میں لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے کا کہنا ہے کہ اسانژ منگل کی دوپہر پناہ حاصل کرنے کے لیے وہاں پہنچے تھے۔ بیان کے مطابق ’اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی کے عالمی اعلامیے پر دستخط کرنے والا ملک ہونے کے ناتے چونکہ پناہ کی تمام درخواستوں کا جائزہ لینا لازمی ہے، اس لیے ہم نے ان کی درخواست کوئیٹو میں متعلقہ حکام کو بھیج دی ہے‘۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’جب تک متعلقہ محکمہ جولین اسانژ کی درخواست کا جائزہ لیتا ہے وہ سفارتخانے میں ہی مقیم رہیں گے جہاں ایکواڈور کی حکومت ان کا تحفظ کرے گی‘۔

سفارتخانے کا کہنا ہے کہ پناہ کی درخواست پر غور کرنے کو ایکواڈور کی حکومت کی جانب سے برطانیہ یا سویڈن کے عدالتی عمل میں دخل اندازی سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔

جولین اسانژ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں پناہ کی درخواست پر غور کرنے کے لیے ایکواڈور کی حکومت اور سفیر کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

اسانژ کو خدشہ ہے کہ اگر انہیں سویڈن کے حوالے کیا گیا تو انہیں ممکنہ طور پر امریکہ بھیجا جا سکتا ہے جہاں ان پر وکی لیکس پر امریکی خفیہ دستاویزات افشاء کرنے سے متعلق الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اور انہیں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔

ادھر وکی لیکس نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر شائع ہونے والے پیغام میں کہا ہے کہ ایکواڈور نے نومبر دو ہزار دس میں اسانژ کو پناہ دینے کی پیشکش کی تھی۔

اس دعوے پر ایکواڈور کے نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے دو ہزار دس میں جولین اسانژ کو قیام کی پیشکش کی تھی اور اس کی وجہ انہیں ان کے پاس موجود معلومات عام کرنے کے لیے آزادی فراہم کرنا تھا اور بعدازاں ملک کے صدر نے اس خیال کو رد کر دیا تھا۔

اسی بارے میں