’قرآن جلانے پر انضباطی کارروائی کی سفارش‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افغانستان میں اس واقعے کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے

امریکی حکام نے کہا ہے کہ افغانستان میں ایک فوجی اڈے پر قرآن کے نسخے نذر آتش کیے جانے کے واقعے کی فوجی تحقیقات کے بعد کم از کم سات امریکی اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

قرآن کے نسخے جلائے جانے کا یہ واقعہ فروری میں پیش آیا تھا جس کے ردعمل میں افغانستان میں چھ روز تک پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جن میں کم از کم تیس افراد مارے گئے تھے جبکہ افغانستان میں تعینات چھ امریکی فوجی بھی اسی ردعمل سے جڑے واقعات میں ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تاحال اس معاملے کی تحقیقات کے نتائج پر حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’تحقیقات کے نتائج میں امریکی بری فوج کے چھ جبکہ بحریہ کے ایک اہلکار کو انتظامی سزا دینے کو کہا گیا ہے لیکن ان پر مجرمانہ الزامات عائد نہیں کیے گئے‘۔

امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں لیکن فوج نے انضباطی کارروائی کے سلسلے میں معلومات دینے سے انکار کیا ہے۔ فوج کے ترجمان جارج رائٹ کا کہنا ہے کہ ’تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے‘۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق، امریکہ اور افغانستان کی افواج کے افسران کی مشترکہ تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مسلمانوں کی مذہبی کتاب کے بارے میں غلطیاں سرزد ہوئیں لیکن دانستہ طور پر قرآن یا کسی بھی مذہبی کتاب کی بے حرمتی نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ امریکی صدر باراک اوباما قرآن جلائے جانے کے واقعے پر معافی مانگ چکے ہیں اور انہوں نے افغان صدر حامد کرزئی کے نام ایک خط میں اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ غیر ارادی طور پر پیش آیا۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے واقعے پر معافی کے باوجود عوام کے غصے میں کمی نہیں ہوئی تھی۔

اسی بارے میں