شام:’مبصرین حملوں اور فائرنگ کا ہدف تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت کے تازہ حملوں میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ہے

عالمی سفارت کاروں کے مطابق شام میں اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے سربراہ میجر جنرل رابرٹ موڈ نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ مبصرین مشتعل ہجوم کا ہدف بنے اور ان پر فائرنگ بھی کی گئی اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے مشن کی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔

میجر جنرل رابرٹ موڈ کے مطابق عالمی تنظیم کے مشن میں شامل تقریباً تین سو غیر مسلح مبصرین پر کم از کم دس بار براہِ راست فائرنگ کی گئی اور صرف آخری ہفتے میں ان کی نو گاڑیوں پر حملے کیے گئے۔

مشن کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ مبصر مشن ختم کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مبصرین نے شامی عوام کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔

ان کے یہ بیانات ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب شام میں حکومتی افواج نے کئی شہروں پر گولہ باری کی ہے۔ شام میں اپوزیشن گروپ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ حمص صوبہ کے شہر رستان اور دارالحکومت دمشق کے آس پاس کے علاقوں پر بمباری کی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے ان حملوں میں دمشق کے مضافاتی علاقے دومہ میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس دوران شام کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ حمص میں لڑائي کے سبب پھنس جانے والے سینکڑوں عام شہریوں کے انخلاء کے لیے انتظامات کرنے پر تیار ہے۔

شام کے وزیر داخلہ نے نیوز ایجنسی ثناء کو بتایا کہ حکومت ان افراد کے غیر مشروط انخلاء کے حق میں ہے لیکن ’مسلح دہشت گرد گروپ‘ اس میں رخنہ ڈال رہے ہیں اس لیے ایسا اب تک نہیں ہوپایا ہے۔

اس سے پہلے جنرل رابرٹ موڈ نے بھی تسلیم کیا تھا کہ عام شہریوں کے انخلاء کی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔

شام سے متعلق تازہ پیش رفت میں منگل کے روز برطانیہ کی سمندری انشورنس کمپنی’سٹینڈرڈ کلب‘ نے روس کے ایک بحری جہاز ’ایم وی الیڈ‘ کی انشورنس یہ کہہ کر منسوخ کر دی تھی کہ ممکنہ طور پر یہ جہاز شام کو ہتھیار سپلائی کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FEMCO
Image caption برطانوی کمپنی نے اس روسی جہاز ے انشورنس واپس لے لیا ہے

کمپنی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گيا ہے کہ انشورنس واپس لینے کے بارے میں فیصلے سے متعلق جہاز کے مالکان کو آکاہ کر دیا گيا ہے۔

اس سے پہلے برطانوی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گيا تھا کہ مذکورہ روسی جہاز شام کی حکومت کو حملے کے لیے ہتھیار اور ہیلی کاپٹر مہیا کر رہا ہے۔

وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گيا کہ برطانیہ نے روس سے ہتھیاروں کی سپلائی کو فوری پر روکنے کے لیے بھی کہا تھا۔

اس دوران میکسکو میں جی ٹوئنٹی کانفرنس کے دوران امریکی صدر باراک اوباما نے شام کی تازہ صورت حال سے متعلق روس اور چینی سربراہان سے بات چیت کی ہے۔ یہی دو ملک شام پر سخت موقف کی مخالف ہیں۔

تاہم براک اوباما نے یہ تسلیم کیا ہے ملاقات کے باوجود شام کے سوال پر وہ دونوں ملکوں کے ساتھ کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی۔

امریکی صدر کا کہنا تھا ’میں اس وقت یہ تو نہیں کہتا کہ امریکہ اور دوسری عالمی برادری روس اور چین کے موقف کے ساتھ ہیں لیکن میں یہ ضرور سمجھتا ہوں کہ وہ خانہ جنگی پھیلنے کے خطرات سے پوری طرح آگاہ ہیں‘۔

اسی بارے میں