’جنگی جہاز شاید شام میں داخل ہوگیا تھا‘

فائل فوٹو، ایف سولہ تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس سے پہلے ترکی کا کہنا تھا کہ اس کا جنگی جہاز ایف فور شام سے متصل صوبے میں دوران پرواز لاپتہ ہو گیا ہے

ترکی کے صدر عبداللہ گل کا کہنا ہے کہ جو جنگی جہاز شام کی فوج نے مار گرایا ہے وہ ہو سکتا ہے کہ غلطی سے شامی فضائی حدود میں داخل ہو گیا ہو۔

واضح رہے کہ شام کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ترکی کے جہاز کو فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر مار گرایا ہے۔

ترکی کے صدر نے ترکی کی خبر رساں ایجنسی کو ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ معمول کی بات ہے کہ جنگی جہاز سرحد پار کر کے دوسرے ملک میں داخل ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا ترکی اور شام مل کر پائلٹ کی تلاش کر رہے ہیں۔

عبد اللہ گل نے کہا ’جیسے کے میں نے کہا ہمارا غیر مسلح جنگی جہاز جس میں دو پائلٹ تھے مار گرایا گیا ہے۔ ہم تحقیق کر رہے ہیں کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔‘

ترکی کے صدر نے مزید کہا ’تیز رفتار جنگی جہازوں کا سرحد پار کر جانا معمول کی بات ہے۔ ہماری تحقیقات اس پر توجہ دے رہی ہے کہ آیا ہمارا جہاز ترکی کی فضائی حدود میں مار گرایا گیا ہے یا نہیں۔ اگر تو جہاز ہماری فضائی حدود میں مار گرایا گیا ہے تو اس کے سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ لیکن تحقیقات مکمل ہونے تک کوئی بیان نہیں دیا جائے گا۔‘

اس سے قبل ترکی کے وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک بار صورتحال مکمل طور پر واضح ہونے پر ترکی فیصلہ کن انداز میں جواب دے گا۔

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے سانا نیوز نے فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ جہاز کو شام کی سمندری حدود پر گرایا گیا۔

شامی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ’ بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں جہاز سے نمٹا گیا۔‘

ترجمان نے سرکاری خبر رساں ادارے سانا نیوز کو بتایا کہ’جمعہ کو گرینج کے معیاری وقت کے مطابق آٹھ بج کر چالیس منٹ پر ایک نامعلوم جہاز مغربی سمت سے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہوا۔‘

انہوں نے کہا کہ ہدف’جہاز‘ کی رفتار بہت زیادہ تھی اور یہ نچلی پرواز کر رہا تھا۔

’جہازوں کو مار گرانے والے نظام’ اینٹی ائر کرافٹ ڈیفنس سسٹم‘ نے جہاز کو صوبہ اذقیہ کے ساحل سے دس کلومیٹر کی دوری پر مار گرایا۔‘

فوجی ترجمان کے مطابق بعد میں معلوم ہوا ہے کہ ہماری فضائی حدود میں داخل ہونے والا یہ جہاز ترکی کی فوج کا تھا۔

دوسری جانب جمعہ کی شام کو ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان نے ملکی سکیورٹی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی ہے۔

دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں ترکی کے وزیر داخلہ، وزیر دفاع، وزیر خارجہ سمیت فوج کے سربراہ شریک تھے۔

ترکی کے وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک بار صورتحال مکمل طور پر واضح ہونے پر ترکی فیصلہ کن انداز میں جواب دے گا۔

استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک میں پہلے سے کشیدہ تعلقات کے تناظر میں جہاز کو مار گرانے کے واقعے کے نتیجے میں سنگین بحران جنم لے سکتا ہے۔

اس سے پہلے ترکی کی فوج کا کہنا تھا کہ اس ایک جنگی جہاز ’ایف فور‘ شام کی سرحد سے متصل صوبہ ہاتے میں دوران پرواز لاپتہ ہو گیا ہے۔

ترکی کی حکومت نے شامی سکیورٹی فورسزکی جانب سے جنگی جہاز کو مار گرانے کی اطلاعات پر سکیورٹی سے متعلق ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔

ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان نے ایک اخباری کانفرس میں کہا کہ ابھی تک یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ جنگی جہاز کس طرح گرا اور نہ ہی جہاز کے دونوں پائلٹس کا پتہ چل سکا ہے۔

اس سے پہلے ترکی کے وزیراعظم سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ’دوسرے فریق نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔‘

شام اور ترکی جو ایک وقت قریبی اتحادی تھے، شام میں مارچ سال دو ہزار گیارہ میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی تحریک شروع ہونے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔

ترکی کی فوج کا کہنا ہے کہ جنگی جہاز ایف فور سے رابطہ گرینج کے معیاری وقت کے مطابق جمعہ کو آٹھ بج کر اٹھاون منٹ پر منقطع ہو گیا تھا اور اس وقت جنگی جہاز صوبہ ہاتے پر پرواز کر رہا تھا۔

شام میں پرتشدد واقعات جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں پرتشدد واقعات جاری ہیں۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق ’مسلح دہشت گرد گروہوں‘ نے صوبہ حلب میں پچیس دیہاتیوں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا ہے۔

شام میں حزب مخالف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ باغیوں نے حکومت کے حامی چھبیس افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

ہلاک کیے جانے والے افراد پر شبہ تھا کہ ان کا تعلق حکومتی ملیشیا سے ہے۔

کارکنوں کے مطابق حلب شہر میں نماز جمعہ کے بعد حکومت مخالف مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب شام کے بحران کے خاتمے سے متعلق عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان کے مطابق اب وقت ہے کہ دنیا شام میں جاری تشدد کے خاتمے کے لیے اضافی دباؤ ڈالے۔

کوفی عنان نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شام کے بحران کے خاتمے کے لیے ایران کو بھی کوششوں میں شامل کیا جانا چاہیے۔ یہ تجویز روس نے پیش کی تھی جبکہ امریکہ نے اس کی مخالفت کی ہے۔

کوفی عنان کے ساتھ شام میں اقوام متحدہ کے نگران مشن کے سربراہ میجر جنرل رابرٹ موڈ بھی موجود تھے۔

اقوام متحدہ نے شام میں پرتشدد واقعات میں اضافے کے بعد سکیورٹی خدشات کی وجہ سے نگران مشن کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں