شامی فوج کے جنرل منحرف، ترکی پہنچ گئے

شام ترکی سرحد تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption لڑائی کے آغاز کے بعد سے تقریباً تیس ہزار شامی شہری ترکی منتقل ہوگئے ہیں

ترکی میں سرکاری ذرائع بلاغ کے مطابق شام کے بعض اعلی فوجی افسران اور کئي دیگر فوجی اہلکار منحرف ہوکر ترکی کے صوبہ ہاتی آگئے ہیں۔

ترکی شام میں حکومتی فورسز کے خلاف بر سرپیکار ’فری سیریئن آرمی‘ کی کھل کر حمایت کرتا ہے۔

ترکی کی انتولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق شامی فوج کا ایک جنرل، دو کرنل اور تقریباً تیس دیگر فوجی اتوار کی رات کو سرحد پار کر کے ترکی پہنچے ہیں۔

نیوز ایجنسی کے مطابق ان افراد نے ان دو سو لوگوں پر مشتمل وفد کے ساتھ سرحد پار کی اور یہ پیر کو علی الصبح ترکی پہنچے۔

اطلاعات کے مطابق منحرف شامی فوجی اپنے اہل و عیال کے ساتھ ترکی پہنچے جنہیں ابدین کیمپ لے جایا گیا ہے۔

ترکی کے حکام کہتے ہیں کہ شام کے بارہ فوجی جنرل پہلے ہی منحرف ہو چکے تھے۔ گزشتہ ہفتے جنگی جہاز کے ایک پائلٹ نے انحراف کرتے ہوئے اپنا جہاز اردن کے ایئر پورٹ پر اتارا تھا اور سیاسی پناہ طلب کی تھی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ انحراف کا تازہ واقعہ اہم تو ہے لیکن یہ پہلے سے جاری اسی سلسلے کا حصہ ہے جس میں اب وقت کے ساتھ تیزی آرہی ہے۔

شام کی جانب سے ترکی کے ایک جنگی جہاز کو مارگرائے جانے کے واقعے کے بعد سے دونوں ملکوں میں کشیدگي بڑھتی جارہی ہے۔

جمعہ کے روز شامی فضائیہ نے ترکی کے ایف۔ 4 جنگی طیارے کو بحیرہ روم میں مار گرایا تھا جس پر سوار دو پائلٹ کا ابھی بھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔

شام کا کہنا ہے کہ ترکی کا جہاز اس کی فضائی حدود میں تھا جب کارروائي کی گئي جبکہ ترکی کا اصرار ہے کہ جب جہاز گرا تو وہ عالمی فضائی حدود میں تھا۔

پیر کے روز ترکی کی کابینہ اس مسئلے پر مزید غور کرنے والی ہے جبکہ منگل کو اسی مسئلے پر جواب کے لیے نیٹو حکام برسلز میں ملاقات کرنے والے ہیں۔

اسی بارے میں