’سرحد کے قریب شامی فوج کو خطرہ تصور کیا جائے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AIRTEAMIMAGES
Image caption جس جہاز پر فائرنگ کی گئی وہ جمعہ کو مار گرائے جانے والے جہاز کے پائلٹس کی تلاش میں مصروف تھا

ترکی کے وزیرِ اعظم طیب اردوگان کا کہنا ہے کہ شام کی جانب سے ترکی کا جہاز گرائے جانے کے واقعے کے بعد فوجی کارروائی کے اصولوں میں تبدیلی لائی گئی ہے۔

ترکی کے وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر شامی فوجیں ترکی کی سرحد کے قریب آتی ہیں تو ان کو فوجی خطرہ تصور کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ شام نے ترکی کا ایف فور مار گرایا تھا۔ شام کا مؤقف ہے کہ جنگی طیارہ اس کی فضائی حدود میں تھا۔

دوسری جانب نیٹو نے شام کی اس کارروائی کی مذمت کی ہے۔

ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان نے کہا کہ ترکی کا جہاز تربیتی پرواز پر تھا اور ترکی کے ریڈار ٹیسٹ کیے جا رہے تھے۔ ’کچھ دیر کے لیے فضائی حدود کی خلاف ورزی کا مطلب حملہ کر دینا نہیں ہوتا۔‘

انہوں نے کہا کہ ترکی تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے لیکن اس کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

اس سے قبل ترکی نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو متنبہ کیا ہے کہ شام کا ترک طیارے کو مار گرانا علاقائی سلامتی کے لیے ایک شدید خطرہ ہے۔

اقوام متحدہ کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ طیارے کو بین الاقوامی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا اور یہ ایک انتہائی اشتعال انگیز اقدام ہے۔

بی بی سی کی باربراہ پلیٹ کے مطابق خط میں سکیورٹی کونسل سے کسی کارروائی کے لیے نہیں کہا گیا۔

اس واقعے پر بلائے گئے نیٹو کے اجلاس کے بعد تنظیم کے سیکریٹری جنرل نے جہاز گرایا جانا ناقبلِ قبول ہے۔

’یہ واقعہ شام کی جانب سے بین اقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ایک اور مثال ہے۔‘

اس سے پہلے ترکی کے نائب وزیرِ اعظم بولینٹ آرنچ نے کہا تھا کہ شام کے اقدامات کو نظر انداز نہیں کر دیا جائے گا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ترکی اس مسئلے کا عسکری حل نہیں چاہتا۔

انہوں نے شام پر ایک اور الزام بھی عائد کیا تھا کہ اس نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے ترک جہازوں میں سے ایک پر فائرنگ بھی کی ہے۔

ترکی کا یہ جہاز گزشتہ جمعہ کو شام کی جانب سے مار گرائے جانے والے طیارے کے ملبے اور پائلٹس کی تلاش کی کارروائیوں میں حصہ لے رہا تھا۔

نائب وزیرِاعظم نے بتایا کہ امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے جہاز کوگرایا نہیں گیا ہے۔

ان کے بقول ’ہماری جانب سے خبردار کیے جانے پر شام نے جہاز پر فائرنگ بند کر دی، ترکی کو بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے تحفظ کا حق حاصل ہے لیکن اس واقعہ پر جنگ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘

تاہم ترک نائب وزیراعظم نے یہ نہیں بتایا کہ دوسرے ترک جہاز پر فائرنگ کا واقعہ کس وقت اور کہاں پیش آیا۔

انہوں نے اس موقف کو دوہرایا کہ ترک جہاز کو اس وقت مار گرایا گیا جب وہ بین الاقوامی فضائی حدود میں تھا۔

’اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ شام نے جان بوجھ کر بین الاقوامی فضائی حدود میں ترک جہاز کو مار گرایا اور ہمارے پاس موجود شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ جہاز کو ہیٹِ سیکنگ لیرز گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔‘

بولینٹ ایرنک نے کہا کہ ترکی کو جوابی کارروائی کا حق حاصل ہے اور آئندہ آنے والے دنوں میں شام کو بجلی کی فراہمی معطل کیے جانے پر غور کیا جائے گا جو ابتک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بند نہیں کی گئی ہے۔

دوسری جانب شام کا کہنا ہے کہ ترک جہاز نے شامی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اور جہاز کو شام کی فضائی حدود میں گرایا گیا۔

شام کے دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق جہاز کا ملبہ گرنے کا مقام ہمارے موقف کا ثبوت ہے۔

دوسری جانب جہاز میں سوار پائلٹس کی تلاش کا کام جاری ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کے زندہ بچ جانے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

اس سے پہلے ترکی نے شامی فوج کی جانب سے جمعے کو اس کے ایک جنگی طیارے کو مار گرانے کے واقعے کے بعد ممکنہ ردِ عمل کے لیے نیٹو ممبران کا اجلاس طلب کر لیا تھا۔

نیٹو آئین کے تحت نیٹو دوست ممالک کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر انہیں اپنی سلامتی کے بارے میں خدشات ہوں تو وہ مشاوراتی طور پر نیٹو اجلاس بلا سکتی ہے۔

اس سے پہلے ترکی کے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ طیارہ مار گرائے جانے سے کچھ دیر قبل ضرور شام کی فضائی حدود میں بھٹک کر داخل ہوا تھا لیکن وہ وہاں سے واپس نکل آیا تھا۔

ان کے مطابق وہ طیارہ نہ تو ہتھیاروں سے لیس تھا اور نہ ہی شام سے متعلق کسی خفیہ مشن پر تھا۔

اسی بارے میں