’ایران پر سخت تر موقف اختیار کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیرِاعظم بنیامن نیتنیاہو نے روسی صدر کو ایران کے بارے میں اسرائیلی خدشات سے اگاہ کیا۔

اسرائیل نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری عزائم کے بارے میں سخت تر موقف اختیار کریں۔

صدر پوتن اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ گزشتہ سات سال میں اس خطے کا روسی صدر کا یہ پہلا دورہ ہے۔

وہ منگل کو فلسطین میں مغربی کنارے کے شہر بیتھلیہم جائیں گے جہاں وہ فلسطینی رہنماء محمود عباس سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں متوقع ہے کہ مشرقِ وسطیٰ امن منصوبہ زیرِ بحث آئے گا۔

اس سے پہلے پیر کو انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو سے ملاقات کی جس میں ایران اور شام کے بارے میں تفصیل کے ساتھ تبادلہِ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد صدر پوتن نے کا کہنا تھا کہ دونوں معاملات کا واحد حل مذاکرات ہیں۔

اسرائیلی وزیرِاعظم نے ملاقات کے بارے میں کہا کہ ’ہم اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیاروں کا ہونا ایک خطرہ ہے، سب سے پہلے اسرائیل کے لیے مگر اس خطے اور پوری دنیا کے لیے بھی۔‘

اس سلسلے میں آئندہ ممکنہ اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اب دو چیزیں کرنا ہوں گی، ہمیں پابندیوں میں اضافہ کرنا ہوگا اور ہمیں اپنے مطالبات میں اضافہ کرنا ہوگا۔‘

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے تاہم مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسرائیل میں سابقہ سوویت یونین سے آنے والے تقریباً دس لاکھ سے زیادہ مہاجرین مقیم ہیں جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ثقافتی تعلقات ہیں۔ تاہم سیاسی طور پر ان روابط میں اکثر تناؤ رہا ہے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ شامی عوام کا قتلِ عام کا رکنا ضروری ہے۔

صدر پوتن نے اس معاملے پر کہا کہ ’عرب سپرنگ نامی مشرقِ وسطیٰ کے اس انقلاب کے آغاز سے ہی روس اپنے ساتھیوں کو اس بات کا قائل کر رہا ہے کہ جمہوری تبدیلی ایک مہذبانہ انداز میں اور بغیر بیرونی مداخلت کے آنی چاہیے‘۔

ولادیمیر پوتن فلسطین کے بعد اردن میں شاہ عبداللہ سے بھی ملاقات کریں گے۔

اسی بارے میں