کیلیفورنیا کا شہر دیوالیہ ہونے کے لیے تیار

شہر کی مئیر این جونسٹن تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ ہمارے لیے اب تک کا انتہائی دشوار اور دل د ہلا دینے والا فیصلہ ہے: میئر این جونسٹن

امریکی ریاست کیلیفورنیا کا شہر سٹاکٹن دیوالیہ ہونے کے لیے تیار ہے اور دیوالیہ ہونے والا امریکہ کا سب سے بڑا شہر ہوگا۔

شہر کی میئر این جونسٹن نے سٹی کونسل سے کہا کہ ’ یہ ان کے لیے اب تک کا انتہائی دشوار اور دل د ہلا دینے والا فیصلہ ہے‘۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ بہتری کے لیے یہ فیصلہ بہت ضروری ہے۔

سان فرانسسکو کے مشرق میں دریا کے کنارے بسا ہوا دو لاکھ نوے ہزار کی آبادی والا یہ شہر امریکہ میں ہاؤسنگ مارکیٹ میں بحران کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔

شہر کو 26 ملین کے خسارے کے بجٹ کا سامنا ہے اور دیوالیہ قرار دیے جانے سے شہر خود کو قرض خواہوں سے دور رکھنے میں کامیاب ہوگا اور پولیس اور فائر بریگیڈ جیسی بنیادی سہولیات کی ادائیگی جاری رکھ سکے گا۔

مالی بحران شروع ہونے کے بعدگزشتہ تین برس میں شہر میں اہلکاروں نے 90 ملین ڈالر کے خسارے کے بجٹ کو انتہائی سخت کٹوٹیوں سے بہتری کی جانب لےجانے کی کوششیں کی ہیں۔

شہر میں پولیس اور فائر بریگیڈ کے عملے میں کٹوتی کے ساتھ ساتھ چالیس فیصد دیگر ملازمین کی کٹوتی کی گئی ہے۔

اس شہر کی پندرہ فیصد سے زائد آبادی بے روزگار ہے۔

شہر کی متعدد عمارتیں خالی ہیں جن پر ’آؤٹ آف بزنس‘ کے بورڈ لگے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شہر کی متعدد عمارتیں خالی ہیں جن پر ’ آؤٹ آف بزنس‘ کے بورڈ لگے ہوئے ہیں۔

سٹاکٹن شہر میں کافی شاپ چلانے والے ایک مقامی باشندے مسٹر بروکنگ کا کہنا ہے کہ شہر کے حکام ان حالات کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے لوگوں کو بلا ضروت اور بے تحاشہ پینشن اور میڈیکل سہولیات مہیا کی تھیں۔

ایک 35 سالہ کمپیوٹر پروگرامر جارج سٹراڈا کا کہنا ہے کہ ہنرمند نوجوانوں کے لیے نئی ملازمتیں حاصل کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے اور ہر کوئی شہر چھوڑ کر سان فرانسسکو یا دوسرے شہروں کی جانب نکلنا چاہتے ہیں۔

جارج کا کہنا ہے کہ حالانکہ ان کے پاس نوکری ہے پھر بھی وہ اس شہر سے نکلنا چاہتے ہیں کیونکہ یہاں جرائم کے واقعات میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ آپ کو نہیں معلوم کے کب آپ کے ساتھ کیا ہو جائے۔‘

جرائم میں اضافے کی بات سے مقامی پولیس بھی اتفاق کرتی ہے۔