دمشق میں حماس کے رہنما ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کمال غناجہ 2010 میں اسرائیلی ایجنٹوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے فلسطینی رہنما محمد المعبرو کے قریبی ساتھی تھے

فلسطین کی جماعت حماس نے کہا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں مقیم اس کے ایک رہنما کمال غناجہ کو اس کے گھر میں گھس کی قتل کر دیا گیا ہے۔

حماس نے فیس بک پر ایک بیان میں کہا ہے کہ کچھ نامعلوم افراد نے بدھ کی رات كمال غناجہ کے گھر میں داخل ہو کر انہیں قتل کر دیا ہے۔

حماس کے کچھ اہلکارروں نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ كمال غناجہ کو اسرائیل کی انٹیلیجنس ایجنسی موساد نے قتل کیا ہے۔

البتہ حماس نے اپنے بیان میں اسرائیل پر براہ راست الزام عائد نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیق کرے گا۔

اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود براک نے فلسطینی رہنماء کی ہلاکت میں موساد کے ملوث ہونے کی تردید یا تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ الزام صحیح ہو۔

حماس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کمال غناجہ جو نذر ابو مجاہد کے نام سے بھی جانے جاتے تھے وہ محمد المعبرو کے مشیر تھے جنہیں دو ہزار دس میں اسرائیلی ایجنٹوں نے دبئی کے ایک ہوٹل میں قتل کر دیا تھا۔

.کمال غناجہ کی موت کی خبر فیس بک پر جاری کی گئی۔

ادھر شام کی حزب اختلاف نے شامی حکومت کو کمال غناجہ کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ حماس کے پولیٹکل بیورو نے شام کے صدر بشار الاسد کی اپنے عوام کے خلاف کاررائیوں کی حمایت سے انکار کیا تھا۔

حماس کے یک اہم رہنما خالد مشال پہلے ہی دمشق چھوڑ کر قطر جا چکے ہیں۔ خالد مشال کے نائب ابو مرزوک مصر میں مقیم ہیں۔