شام: ’روس کوفی عنان کے منصوبے کا حامی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منصوبے میں شام میں ایک قومی اتحاد پر مشتمل ایک عبوری حکومت کا قیام بھی شامل ہے

اطلاعات کے مطابق روس اور دیگر عالمی طاقتیں اقوامِ متحدہ کے ایلچی کوفی عنان کی شام میں سیاسی تبدیلی کے لیے ایک قومی اتحادی حکومت کے قیام کی تجویز کی حمایت پر تیار ہوگئے ہیں۔

مغربی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ اس قومی کابینہ میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان شامل ہو سکتے ہیں لیکن کسی ایسے فرد کو اس میں شامل نہیں کیا جائے گا جس سے اس کی ساکھ متاثر ہو۔

اگرچہ مغربی ممالک اس قومی حکومت میں موجودہ صدر بشار الاسد کی شمولیت کو خارج از امکان قرار دے رہے ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا روس بھی اس خیال سے متفق ہے یا نہیں۔

قومی اتحادی حکومت کے خیال پر سنیچر کو شام کے معاملے پر اقوامِ متحدہ کا ایکشن گروپ غور کرے گا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کوفی عنان نے واضح کر دیا ہے کہ شام کی صورتحال پر ہونے والے سمجھوتے میں اقتدار کی منتقلی کا واضح طریقۂ کار اور اس کے لیے مقررہ مدت ہونا لازم ہے۔

ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں شام میں ایک قومی اتحاد پر مشتمل ایک عبوری حکومت کا قیام بھی شامل ہے جو انتقالِ اقتدار کے لیے غیر جانبدار فورم کا کردار ادا کرے گی۔

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ’یہ حکومت شام کی موجودہ حکومت اور اپوزیشن کے ارکان اور دیگر قوتوں پر مشتمل ہو سکتی ہے لیکن اس میں ایسے افراد کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے جن کی موجودگی یا شرکت اقتدار کی منتقلی کے عمل کی ساکھ کو متاثر کرے یا مفاہمت اور استحکام کے امکانات کے لیے نقصان دہ ہو‘۔

نیویارک میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی میں حائل بڑی دشواری یہ ہے کہ موجودہ صدر بشار الاسد کو حکومت میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

روس اب تک شام کے موجودہ صدر بشار الاسد کو اقتدار سے الگ کرنے کی مخالفت کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کے مستقبل کا فیصلہ صرف شامی عوام کو کرنے دیا جائے اور بیرونی طاقتیں اس معاملے میں مداخلت نہ کریں۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو روزنبرگ کا کہنا ہے کہ اگر روس یہ مان جاتا ہے کہ بشار الاسد ایک بوجھ بن چکے ہیں اور ان کے بغیر ایک شام میں قومی حکومت اس کے قومی مفاد میں ہے تو وہ اس معاہدے پر دستخط کرنے والا پہلا ملک ہوگا۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے جو سنیچر کو ہونے والے ایکشن گروپ اجلاس میں بھی شریک ہوں گی، کہا ہے کہ اگر سب سیاسی تبدیلی کے لیے کوفی عنان کے سیاسی نقشۂ راہ پر متفق ہوئے تو ’امید ہے کہ یہ ممکنہ طور پر حالت میں تبدیلی کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے‘۔

اقوامِ متحدہ میں روس کے سفیر ویٹالی چرکن کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ’وزرائے خارجہ کے درمیان سنجیدہ بات چیت کی توقع رکھتا ہے‘ تاکہ شام میں لڑائی کا خاتمہ ہو اور سیاسی بات چیت کا آغاز ہو۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جب تک شام میں تشدد جاری ہے ملک میں سیاسی تبدیلی کے منصوبے پر عمل نہیں ہو سکتا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں مارچ دو ہزار گیارہ میں حکومت مخالف مظاہروں کے آغاز کے بعد سے اب تک کم از کم دس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جون میں شامی حکومت نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چھ ہزار نو سو سینتالیس بتائی ہے جن میں تین ہزار دو سو گیارہ عام شہری اور دو ہزار پانچ سو چھیاسٹھ سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

اسی بارے میں