اوباما کا ہیلتھ بل قانونی ہے: سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عدالتی فیصلے کے بعد براک اوباما نے اسے ریاست کی کامیابی قرار دیا

امریکی سپریم کورٹ نے صدر براک اوباما کے صحتِ عامہ کے شعبے میں تاریخی اصلاحات کے قانون کو آئینی قرار دے دیا ہے۔

چیف جسٹس جان رابرٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے چار کے مقابلے میں پانچ ووٹوں سے اس قانون کے حق میں اپنی رائے دی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بل کی ایک کلیدی شق کو بھی برقرار رکھا جس کے تحت امریکہ میں طبی انشورنس نے خریدنے والے فرد کو جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔\

یہ فیصلہ امریکہ میں صدارتی انتخابات سے چند ماہ پہلے آیا ہے اور حزبِ اختلاف کی ریپبلکن پارٹی اس بل کی مخالفت کر رہی ہے۔

مارچ 2010 میں صدر اوباما کے دستخط کے ساتھ ہی اس بل کو قانونی درجہ ملنے کے بعد فلوریڈا سمیت بارہ ریاستوں نے اسے قانونی طور پر چیلنج کر دیا تھا۔ بعد میں ان کی حمایت میں مزید تیرہ ریاستیں آ گئی تھیں اور اس کے علاوہ کئی دیگر تنظیموں نے بھی بل کی مخالفت کی تھی۔

عدالتی فیصلے کے بعد براک اوباما نے اسے ریاست کی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ عوام کو بیمار ہونے کی صورت میں اپنے مستقبل اور زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالنا پڑے گا۔

صدر اوباما نے کہا کہ اب وقت آگے بڑھنے کا ہے اور اس قانون میں اور بہتری لائی جائے گی اور اسے بہتر طریقے سے نافذ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ’ہم اس بل کو اور بہتر بنائیں گے کیونکہ ہمارے پاس اسے منظور کروانے کی ہمت تھی‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس بل کو قانونی درجہ ملنے کے بعد فلوریڈا سمیت بارہ ریاستوں نے اسے قانونی طور پر چیلنج کر دیا تھا

اس کے برعکس آئندہ صدارتی انتخاب میں براک اوباما کے حریف اور ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار مٹ رومني کا کہنا تھا کہ صحت بل کل بھی ایک خراب قانون تھا اور آج بھی ایک خراب قانون ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’امریکی عوام کے لیے یہ انتخابات کا وقت ہے۔. اگر ہم اوباما کے اس بل سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو ہمیں صدر براک اوباما سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ میرا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہم ایسا کر کے رہیں گے‘۔

مٹ رومني نے بل کو ’ اوباما كیئر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک پر قرض بڑھے گا اور روزگار ختم ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون وفاقی حکومت کو ایک امریکی شہری اور اس کے ڈاکٹر کے درمیان لا کھڑا کرے گا۔

فیصلے کے بارے میں چیف جسٹس جسٹس رابرٹس کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اس پر غور نہیں کیا کہ آیا یہ ایکٹ ٹھوس پالیسیوں پر مشتمل ہے اور یہ فیصلہ ملک کے منتخب رہنما کو سونپ دیا گیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم صرف یہ جاننا چاہتے تھے کہ آیا کانگریس کے پاس آئین کے تحت ایسے اختیارات ہیں کہ وہ اس قسم کا عمل کر سکے‘۔

جج صاحبان نے کثرتِ رائے سے یہ فیصلہ دیا کہ طبی انشورنس خریدنے سے انکار کرنے والے افراد پر جرمانہ عائد کرنا کانگریس کے ٹیکس عائد کرنے کے اختیار کے تحت آتا ہے۔

اس معاملے میں حکومت کا بنیادی دلیل یہ تھی کہ یہ بل بین الریاستی کاروبار میں باقاعدگی لانے کی کانگریس کے آئینی اختیار کے تحت قانونی ہے، لیکن زیادہ تر جج اس بات سے متفق نہیں تھے۔

ری پبلکن پارٹی ابتداء سے ہی اس بل کی یہ کہہ کر مخالفت کر رہی ہے کہ اس سے سرکاری خزانے پر کروڑوں ڈالر کا بوجھ پڑے گا اور ملک کی معیشت پر اس کا منفی اثر ہوگا۔

اسی بارے میں