امریکہ: اوباما کولوراڈو کے دورے پر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کولو راڈو کے جنگلات میں لگنے والی آگ نے ہزاروں افراد کو اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے

امریکی صدر براک اوباما نے کولوراڈو کے جنگلات میں لگنے والی آگ کے بعد سینچر کو ریاست کا دورہ کیا۔

اس سے پہلے امریکی صدر نے جمعہ کو کولوراڈو کے جنگلات میں لگنے والی آگ کے بعد ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔

کالوراڈو کے میئر سٹیو باچ، گورنر جان ہیکن لوپر اور سینیٹر مارک اوڈل نے امریکی صدر براک اوباما کو آگ سے ہونے والے نقصان کے حوالے سے بریفینگ دی۔

کولو راڈو کے جنگلات میں لگنے والی آگ نے ہزاروں افراد کو اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق آگ نے تین سو چھیالیس گھروں کو خاکستر کر دیا اور اسے ریاست کولوراڈو کی تاریخ کی مہلک ترین آگ قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب کولوراڈو کی جنگلات سروس نے متنبہ کیا ہے کہ آگ پر پوری طرح قابو پانے میں کئی ہفتے درکار ہوں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ شمالی کالوراڈو کے ہائی پارک میں آگ لگنے سے ایک شخص ہلاک جبکہ دو سو ستاون گھروں جل کر خاک ہو گئے۔

حکام کے مطابق کالوراڈو ریاست میں آگ پر قابو پانے کے لیے ایک ہزار سے زیادہ فائر فائیٹزز کو تعینات کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ریاست کالوراڈو میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد رقبہ جل گیا ہے۔

ایک فائر فائیٹر رچ نے خبر رساں ایجنسی ایسویسی ایٹیڈ پریس کو بتایا کولوراڈو کے جلے ہوئے قریبی علاقے ’جہنم‘ کی طرح دکھائی دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا’ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے وہاں کوئی نیوکلیئر بم پھٹ گیا ہو، وہاں ہر طرف آگ ہی آگ تھی۔‘

حکام کے مطابق کولوراڈو میں گیس اور بجلی کی سپلائی بحال کرنے میں کچھ مزید وقت درکار ہو گا۔

واضح رہے کہ کولوراڈو کے جنگلات میں لگنے والی آگ نے چار لاکھ بیس ہزار افراد پر مشتمل آبادی کے ہزاروں افراد کو متاثر کیا ہے۔

آگ پر قابو پانے کے لیے امریکہ کے آدھے فائر فائٹنگ ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق آگ سے ایک لاکھ، ساٹھ ہزار ایکڑ رقبہ متاثر ہوا ہے۔

کولوراڈو کے میئر سٹیو باچ نے اس آفت کو متاثرہ افراد کے لیے مشکل وقت قرار دیا ہے۔

کولوراڈو کے جنگلات میں لگنے والی آگ کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق جمعرات تک تین اعشاریہ دو ملین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں