’تشدد کی ذمہ دار عالمی برادری بھی ہوگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ کانفرنس کوفی عنان کی درخواست پر ہی طلب کی گئی ہے

عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے شام کے سلسلے میں منعقد ہونے والے عالمی وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں متنبہ کیا ہے کہ تشدد کے خاتمے کے لیے طریقۂ کار پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں بین الاقوامی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

سوئس شہر جنیوا میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری متفق نہ ہو سکی تو شام میں شہریوں کی مزید ہلاکتوں کے لیے بین الاقوامی طاقتیں بھی ذمہ دار ہوں گی۔

شام کے معاملے پر روس اور مغربی ممالک کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ کیا صدر بشارالاسد کے پاس اقتدار رہنا چاہیے یا نہیں اور روس اس بات کی مخالفت کرتا رہا ہے کہ شامی صدر کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا جائے۔

اس سے پہلے ایک امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ جنیوا میں شام کے بحران کو حل کرنے کے لیے منعقد کیے گئے اہم مذاکرات سے پہلے روس اور امریکہ کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہو سکے تھے۔

امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے جنیوا میں سینچر کو ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے کسی پیش رفت کی اطلاع نہیں دی۔

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ شام کے بحران کے حوالے سے روس اور امریکہ کے درمیان کچھ اختلافات برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنیوا کانفرنس میں شام کے حوالے سے کسی معاہدے پر متفق ہونا مشکل ہے۔

واضح رہے کہ یہ کانفرنس کوفی عنان کی درخواست پر طلب کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ اور روس صدر بشارالاسد کے مستقبل کے کردار پر اختلاف کا شکار ہیں

اس سے پہلے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروو نے امریکی ہم منصب ہلیری کلنٹن سے ملاقات میں شام میں بحران کے خاتمے کے لیے کسی حل پر پہنچنے کی امید ظاہر کی تھی۔

سینٹ پیٹرز برگ میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے شام میں تشدد کے خاتمے کے لیے اتفاقِ رائے سے متفقہ فارمولے پر اتفاق کیا تھا۔

اس ملاقات کے بعد سرگئی لاروو کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس جنیوا میں ہونے والی کانفرنس میں شام کے بحران کو حل کرنے کا بہت اچھا موقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق شام میں لڑائی کا سلسلہ جاری ہے اور لندن میں مقیم تنظیم ’سیرین آبزروٹری فار ہیومن رائٹس‘ کا کہنا ہے کہ جمعہ کو عام شہریوں سمیت کم از کم پچیس افراد ہلاک ہو گئے جبکہ جمعرات کو ایک سو سترہ عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں