بیت اللحم کے گرجا گھر کو یونیسکو کا تحفظ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بیت اللحم کے مقامات کو اقوام متحدہ کا تحفظ ملنا فلسطین کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

اقوام متحدہ کی تعلیم، سائنس اور ثقافت کی تنظیم یونیسکو نے فلسطین کے شہر بیت اللحم میں موجود ایک گرجا گھر، چرچ آف دی نیٹیوِٹی، اور اس کو جانے والے راستے کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا ہے اور اس کو ’ورلڈ ہیریٹج سائٹس‘ کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔

روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں یونیسکو ممبران نے چھ کے مقابلے میں تیرہ ووٹوں سے ان مقامات کو ہنگامی بنیادوں پر ثقافتی ورثوں میں شامل کرنے کے فیصلے کی منظوری دی۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ چرچ آف دی نیٹیوِٹی اسی مقام پر تعمیر کیا گیا تھا جہاں حضرت عیسیٰ کی پیدائش ہوئی تھی۔

فلسطین کی یہ پہلی تاریخی عمارت ہے جس کے تحفظ کی بین الاقوامی منظوری دی گئی ہے۔ عالمی ورثہ قرار دینے کے لیے اسرائیل اور امریکہ نے فلسطین کی درخواست کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام سیاسی مقاصد کے لیے کیا جا رہا ہے۔

بیت اللحم کا چرچ آف دی نیٹیوِٹی سنہ تین سو ننانوے میں تعمیر کیا گیا تاہم چھٹی صدی عیسوی میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ اسے عیسائیت کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک مانا جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس مقام پر ہر سال تقریباً بیس لاکھ زائرین عبادت کے لیے آتے ہیں۔

گرجا گھر کے علاوہ یروشلم سے بیت اللحم کو جانے والا تاریخی راستہ بھی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ یہ وہ راستہ ہے جس پر حضرت عیسیٰ کی والدہ حضرت مریم نے سفر کیا تھا۔ کرسمس کے موقع پر زائرین کا جلوس اسی راستے سے جاتا ہے۔

اس اقدام کے بعد اقوام متحدہ ان مقامات کی حفاظت اور بحالی کی ذمہ داری لے سکے گا اور اس کے اخراجات بھی اٹھا سکے گا۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ان مقامات کو بچانے کے لیے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

یونیسکو میں فلسطین کے مستقل نمائندے الیاس ودیہ سانبر کا کہنا ہے کہ ان مقامات کو اسرائیل کی جانب فلسطینی علاقوں کو علیحدہ کرنے کے لیے دیوار کی تعمیر سے تباہ ہونے خطرہ تھا۔

ادھر اسرائیلی نمائدے نمرود برکان کا کہنا تھا ان کا ملک ان مقامات کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ بنانے کے حق میں ہے تاہم اس کے لیے اس مکمل مختلف غیر ہنگامی طریقہ کار اپنانا چاہیے جس سے عرب امن منصوبے پر کوئی اثر نہ پڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کیا جانے والا یہ فیصلہ سیاسی بنیادوں پر کیا گیا ہے اور اس سے اقوام متحدہ کے قوانین اور اس کے عالمی تاثر کو نقصان پہنچے گا۔

عیسائیوں کے چند فرقوں نے بھی اس اقدام کی مخالفت کی۔ ان کو خدشہ ہے کہ یونیسکو چرچ آف دی نیٹیوِٹی کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے لگے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فلسطینی اسے ایک چھوٹی تاہم اہم فتح کے طور پر دیکھیں گے۔

گزشتہ سال یونیسکو اقوام متحدہ کی وہ پہلی تنظیم تھی جس نے شدید امریکی اور اسرائیلی مخالفت کے باوجود فلسطین کو رکنیت دے دی تھی۔ اس کے جواب میں امریکہ کی جانب سے تنظیم کو لاکھوں ڈالروں کی امداد روک دی گئی تھی۔

اسی بارے میں