شہریت کے ٹیسٹ میں تبدیلی کا منصوبہ

Image caption ٹیسٹ کے بارے میں نیا کتابچہ رواں سال موسمِ خزاں میں جاری کیے جانے کا امکان ہے

برطانیہ کی وزارتِ داخلہ شہریت حاصل کرنے کے لیے درکار ٹیسٹ میں اہم تبدیلیاں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

برطانوی شہریت کے خواہشمند تارکینِ وطن کے لیے، ’لائف اِن یونائیٹڈ کِنگڈم‘ نامی ٹیسٹ دو ہزار پانچ میں متعارف کرایا گیا تھا اور امکان ہے کہ اِن تبدیلیوں سے برطانوی شہریت کا حصول مزید مشکل ہو جائے گا۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کے مطابق اب یہ ٹیسٹ جدید برطانوی طرزِ زندگی کی بجائے برطانوی تاریخ کا احاطہ کرے گا۔

اخبار کے مطابق تارکینِ وطن کو برطانوی شہری بننے سے قبل قومی ترانے کی پہلی سطر زبانی یاد کرنا ہوگی۔

بےروزگاروں کے لیے سرکاری وظیفے اور انسانی حقوق جیسے جدید نظریات ٹیسٹ میں سے نکال دیے جائیں گے اور تارکینِ وطن کو اب شیکسپیئر، لارڈ بائرن اور ڈیوک آف ویلِنگٹن جیسی تاریخی شخصیات، ٹریفالگر کی جنگ جیسے واقعات، برطانوی ایجادات اور دریافتوں سے واقف ہونا پڑے گا۔

برطانوی ہوم آفس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ برطانوی ثقافت سے زیادہ تعلق نہ رکھنے والے مواد سے ایسے مواد کی طرف منتقلی ہے جو لوگوں کو برطانوی تاریخ کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم کرے اور انہیں ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلوائے۔

اس ٹیسٹ کے بارے میں نیا کتابچہ رواں سال موسمِ خزاں میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ اسی کتابچے کی بنیاد پر پینتالیس منٹ پر مشتمل ٹیسٹ لیا جائے گا۔