ترکی اور شام میں کشیدگی میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ترکی کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے شام کے ہیلی کاپٹروں کی سرحد کے قریب پروازوں کے بعد اس نے بھی اپنی فضائیہ کے چھ لڑاکا طیاروں کو سرحد کے قریب تعینات کر دیا ہے۔

ترکی کی طرف سے فضائیہ کے طیاروں کو چوکس رہنے کے حکم دینے کی خبر دونوں ملکوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ایک اور اشارہ ہے۔

اس ماہ کے شروع میں ترکی کی فضائیہ کا ایک لڑاکا طیارہ شام کی فوج نے مار گرایا تھا۔

اس کے بعد انقرہ نے خبردار کیا تھا کہ شام کے کسی بھی فوجی یونٹ کی یا فضائیہ کے کسی جہاز یا ہیلی کاپٹر کی سرحد کے قریب کارروائی کو ترکی پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔

دریں اثناء شام میں حکومت مخالف گروپ سیرین نیشنل کونسل کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ ایک ہفتے میں تشدد کے مختلف واقعات میں آٹھ سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

سیرین نیشنل کونسل نے کسی بھی ایسے منصوبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے جس میں صدر بشرالاسد اپنے عہدے پر قائم رہیں۔

سنیچر کو جینیوا میں عالمی طاقتوں کے اجلاس کے بعد اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی کوفی عنان نے کہا تھا کہ عالمی طاقتیں شام میں امن کے قیام کے لیے عبوری حکومت بنائے جانے پر متفق ہو گئی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے اس اجلاس کے بعد کہا تھا کہ شام کے صدر بشار الاسد کو اقتدار سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔

جبکہ روس کے وزیر خارجہ سرغی لاروف کا کہنا تھا کہ اس عبوری حکومت کے لیے ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی ہے کہ کس کو اس میں شامل کیا جانا چاہیے اور کسے نہیں۔

اسی بارے میں