’معیشت ،صحت اور تعلیم میں قابل ذکر ترقی کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

افغانستان اہم سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی تبدیلیوں کے اس عروج پر پہنچ رہا ہے جو بظاہر اس ملک کےلیے ایک نئی نوید کا آغاز ثابت ہورہا ہے۔

افغان حکومت نے ماضی کی ترقی کا جائزہ لیتے ہوئے اور نئے چینلنجز سے نٹمنے کےلیے ایک نئی حکمت عملی ترتیب دی ہے۔ اس حکمتِ عملی کے مطابق امن و استحکام کےلیے عالمی برادری کی حمایت اور قومی ترجیحات کے پروگراموں کے ذریعے سے ملک کے عملی منصوبوں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ ان اہم ترجیحات اور منصوبوں کو افغانستان سے متعلق جاپان کے شہر ٹوکیو میں پچیس کون کو ہونے والے عالمی کانفرنس میں بین الاقوامی برادری کے سامنے رکھا گیا۔

پچھلے ایک عشرے کے دوران افغانستان نے معیشت ،صحت اور تعلیم و تربیت کے شعبوں میں قابل ذکر ترقی کی ہے۔ تین سال پہلے افغان حکومت کے مجموعی شرح نمو کم و بیش ایک بلین ڈالر تھی لیکن اب یہ بڑھ کر دو بلین ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔

صحت کے بنیادی سہولیات پہلے صرف نو فیصد لوگوں کو میسر تھیں لیکن اب یہ سہولیات ستاون فیصد لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔ افغانستان میں گزشتہ سال سکولوں میں طلباء و طالبات کی تعداد آٹھ ملین تھی جبکہ اس دوران ایک لاکھ ستاون ہزار طلبہ نے تعلیم مکمل کی۔

ایک دہائی کے دوران تقریباً آٹھ ہزار کلومیٹر نئی سڑکیں تعییر کی جاچکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دو سو پچاس فیصد بجلی کی سہولیات میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک کی اسّی فیصد عوام کو مواصلات کی سہولیات میسر ہیں۔

گزشتہ دہائی میں ہونے والی ترقی اس بات کی ضامن ہے کہ آئندہ دہائی میں بھی اسی رفتار سے ترقی ہوگی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کو کئی قسم کے مشکلات کا بھی سامنا رہا۔

ملک میں چھتیس فیصد سے زیادہ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزانے پر مجبور ہیں جبکہ آبادی کا نصف حصہ بے روزگاری کا شکار ہے۔

افغانستان میں جاری اس ترقی کے باوجود بھی حکومت عام ترقیاتی بجٹ کےلیے عالمی برادری کی امداد کی منتظر ہے۔ تجزیوں اور مشاہدوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قومی بجٹ کے ذریعے سے استعمال ہونے والی غیر ملکی امداد دیگر طریقوں سے خرچ کیے جانے والی امداد سے کئی گنا موثر ہے۔

کابل میں ہونے والے گزشتہ کانفرنس میں بین الاقوامی برادری نے یہ تسلیم کیا تھا کہ ملک کو ملنے والی پچاس فیصد امداد کو قومی بجٹ کے ذریعے سے خرچ کیا جائے گا۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ تمام امداد کا اسّی فیصد افغان حکومت کے ترجیحات کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔

گزشتہ عشرے کے دوران افغانستان کی معاشی ترقی چھ سے آٹھ فیصد تک پہنچ گئی ہے جو دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر بتائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں