چیک پوسٹ پر حملہ، تین برطانوی فوجی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption افغانستان میں افغان سکیورٹی فورسز کی وردی میں ملبوس مسلح افراد کے ہاتھوں اتحادی افواج کے اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

برطانیہ کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ افغانستان کے صوبہ ہلمند میں فائرنگ کے واقعہ میں ہلاک ہونے والے نیٹو کے تینوں اہلکار برطانوی تھے۔

نیٹو کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ جنوبی افغانستان میں پیش آیا۔ بیان کے مطابق فائرنگ کرنے والے شخص کو زحمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں دو فوجیوں کا تعلق ویلش گارڈز کی فرسٹ بٹالین اور ایک کا رائل کور آف سگنل سے تھا۔ ان کے اہل خانہ کو مطلع کر دیا گیا ہے۔

محکمۂ دفاع نے کہا کہ ’اتوار کو جنوبی افغانستان میں افغان پولیس کی وردی میں ملبوس ایک شخص نے اپنی بندوق سے فائرنگ کر کے بین الاقوامی اتحادی افواج کے تین اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔‘

افغانستان میں رواں سال اب تک فائرنگ کے مختلف واقعات میں کم سے کم بیس غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی کل تعداد چھبیس ہے۔ اس کے مقابلے میں دو ہزار گیارہ کے دوران پورے سال میں پینتیس فوجی ہلاک ہوئے تھے۔گزشتہ تین برسوں میں چودہ برطانوی فوجی مقامی اہلکاروں کے حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوج اس وقت افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت کر رہی ہیں تاکہ سال دو ہزار چودہ تک ملک میں سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داریاں افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دی جائیں۔

افغانستان میں رواں سال فروری میں امریکی فوج کے ہاتھوں قرآن جلائے جانے اور امریکی فوجی کے ہاتھوں سولہ عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد ملک میں غیر ملکی سکیورٹی فورسز کے خلاف عوام کے غم و غصے میں اضافہ ہوا ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس واقعے پر اپنے رد عمل میں کہا کہ ’مجھے اس افسوسناک خبر سے بہت دکھ ہوا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ان خطرات کا مظہر ہے جن سے افغانستان میں ہمارے فوجیوں کا ہر روز سامنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ معلوم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے یہ واقعہ کیسے پیش آیا اور مستقبل میں ایسے واقعات کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔

برطانوی وزیر دفاع فلپ ہیمنڈ نے کہا کہ اس حملے سے وسیع تر حکمت عملی میں تبدیلی کا امکان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر روز برطانوی فوجیوں سمیت ہزاروں غیر ملکی فوجی افغان اہلکاروں کے ساتھ مل کر تربیت حاصل کرتے ہیں تاکہ دو ہزار چودہ کے بعد افغان فوجی ملک میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل جاری رہے گا۔

بی بی سی کی نامہ نگار نے کہا کہ اس طرح کے واقعات جن میں مقامی اہلکار غیر ملکی فوجیوں کو نشانہ بناتے ہیں باہمی اعتماد میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے سب لوگ کسی حد تک محتاط ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں