فوکو شیما حادثہ انسانی غفلت کا نتیجہ، رپورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ کے مطابق بروقت اور درست اقدامات سے اس حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔

جاپان میں گزشتہ برس آنے والے زلزلے کے باعث فوکو شیما کے جوہری پلانٹ میں حادثے کی تحقیقات کرنے والی پارلیمانی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ’گو کہ یہ ایک قدرتی امر تھا لیکن اِسے سانحے میں بدلنے کی ذمہ دار انسانی کوتاہی ہے۔‘ رپورٹ کے مطابق بروقت اور درست اقدامات سے اس حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔

تحقیقاتی پینل کے سربراہ کی یوشی کوروکاوا کا کہنا ہے کہ ’متعدد غلطیوں اور جان بوجھ کر کی گئی لاپرواہی کی وجہ سے یہ جوہری پلانٹ مارچ دو ہزار گیارہ جیسے بڑے زلزلے اور سونامی سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں کیا جا سکا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ پلانٹ میں پیش آنے والے حادثے کے بعد اس پلانٹ کے منتظمین، نگرانوں اور حکومت کی جانب سے ردِ عمل میں سنجیدہ کوتاہیاں پائی گئیں۔

انہوں نے اس حادثے کو ’میڈ اِن جاپان‘ قرار دیا۔ بقول ان کے ’اس حادثے کی بنیادی وجہ جاپانی ثقافت میں موجود تابعداری اور حکام کے خلاف سوال اٹھانے میں جھجھک کا ہونا ہے۔‘

اس سے پہلے اس کمیٹی نے اپنے عبوری بیان میں اس وقت کے وزیر اعظم ناؤتو کان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ فوکوشیما پلانٹ میں سونامی کے بعد پیش آنے والے سانحے سے اتنی مستعدی سے نہیں نمٹ پائی جتنا کہ ہونا چاہئیے تھا۔ کمیٹی کے مطابق ایسی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے حکومت کے پاس کوئی خاص انتظامات نہیں ہیں۔

کمیٹی کے مطابق وزیر اعظم کے دفتر نے پلانٹ کے حکام سے بار بار معلومات طلب کیں جس سے وہاں امدادی کاروائیوں میں مصروف لوگوں کا دھیان بٹا اور اس وجہ سے پہلے سے ہی بے حد خراب حالات اور بگڑے۔

گزشتہ سال جاپان میں آئے تباہ کن زلزلے اور سونامی کے بعد فوکو شیما کے جوہری پلانٹ کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

اس کے بعد جوہری پلانٹ سے خارج ہونے والی تابکاری کے باعث علاقے میں افراتفری مچ گئی اور ہزاروں لوگوں کو وہاں سے بے گھر کرنا پڑا تھا۔ جاپان کے ساحل سے چھ سو کلو میٹر کی دوری تک تابکاری اثرات دیکھے گئے ۔

اسی بارے میں